ایران میں احتجاج کی قیادت اِن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے
ایران میں عوام کی جانب سے جاری احتجاجی مہم ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ سال 2009 کے بعد ملک میں ہونے والے سب سے بڑے مظاہروں اور احتجاجی سلسلے کی قیادت نئی نسل کے وہ فرزندان کر رہے ہیں جن کی پیدائش 1989 میں خمینی کی موت کے بعد ہوئی۔ یہ نسل ملک کے اس نظام کے خلاف ہے جو اُسے اپنی عالمگیریت پر مبنی خواہشات اور توقعات کے حوالے سے اجنبی نظر آتا ہے۔
ایران میں تیس برس سے کم عمر یعنی خمینی کے بعد پیدا ہونے والوں کی تعداد ایران کی کُل آبادی کے نصف کے برابر ہے۔ ان میں بے روزگاری کی شرح 40% تک پہنچ چکی ہے۔
نوجوانوں کا احتجاج بنیادی طور پر تہران میں مرکوز نہیں جو اپوزیشن کا روایتی گڑھ ہے بلکہ یہ سلسلہ غیر فارسی آبادی کے علاقوں سے منتقل ہو کر فارسی اکثریت دارالحکومت تہران پہنچا ہے جہاں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی 90% گرفتاریاں ہوئی ہیں۔
ادھر مغرب کم از کم ایک برس سے اس امر کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی مقاربت پر اتفاق رائے ہو جائے۔ بہت سے لوگوں کا سوال ہے کہ دنیا کس طرح اس ایرانی تحریک کی مدد کر سکتی ہے یا آیا کہ مغرب کو مداخلت کرنا چاہیے!
دوسری جانب امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کا کہنا ہے کہ باراک اوباما 2009 میں محمود احمدی نژاد کے خلاف اٹھنے والی سبز تحریک کی سپورٹ میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس مرتبہ ہونے والے مظاہروں کے لیے اپنی سپورٹ کے اظہار میں تیزی دکھا رہے ہیں۔
بہرکیف کسی بھی حال میں مغرب کو مظاہرین کی صورت میں اپنے خاص مقاصد کا عکس نہیں دیکھنا چاہیے۔ ایران میں ان احتجاج کنندگان کے اپنے خواب اور مقاصد ہیں۔
-
تہران میں نظام کی تبدیلی ایرانی عوام کا حق ہے: امریکا
امریکا نے ایران میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاج کی تحریک کی ایک بار پھر بھرپور ...
بين الاقوامى -
ایران میں احتجاج، سلامتی کونسل، انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس طلب
عالمی برادری ایران میں احتجاج کی حمایت کرے: امریکا
بين الاقوامى -
ایران :مسلسل چھٹی رات احتجاجی مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں ، 450 گرفتار
ایران کے دارالحکومت تہران اور دوسرے شہروں میں رات کے وقت احتجاجی مظاہروں کا ...
بين الاقوامى