جرمنی : نرس نے 97 مریضوں کو خود نمائی کی بھینٹ چڑھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جرمنی میں نیلز ہوگل نامی مرد نرس کو 97 افراد کی جان لینے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان جرمنی کے شمال میں اولڈنبرگ کی استغاثہ نے کیا۔

ہوگل کو قصور وار ٹھہرائے جانے کی صورت میں وہ جرمنی میں لوگوں کی سب سے بڑی تعداد کو قتل کرنے والا شخص بن جائے گا۔

اولڈنبرگ کی عدالت کے ترجمان نے پیر کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عدالتی کارروائی کا آغاز رواں برس کے دوران ہو جائے"۔

اس سے قبل 41 سالہ ہوگل کو چھ مریضوں کی جان لینے پر عمر قید کی سزا دی جا چکی ہے۔ تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ وہ 1999 سے 2005 کے دوران ڈیلمین ہورسٹ اور اولڈنبرگ کے ہسپتالوں میں 62 دیگر افراد کی وفات کا بھی ذمّے دار ہو سکتا ہے۔

جرمنی میں عدالتی حکام نے اس مقدمے کو اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ قرار دیا۔

سرکاری بیان کے مطابق نیلز ہوگل نے مریضوں کو جن میں اکثریت عمر رسیدہ تھے، انجیکشن کے ذریعے دوا کی زائد مقدار دی تا کہ وہ موت کے کنارے پر پہنچ جائیں۔ استغاثہ کا مزید کہنا ہے کہ ملزم کو معلوم تھا کہ وہ مریضوں کو جو دوا دے رہا ہے اس سے حرکت قلب تیز اور فشار خون کم ہو سکتا ہے۔ ہوگل کا مقصد یہ تھا کہ جب ان مریضوں کو یہ دوا دینے سے ان کی حالت خراب ہو جائے گی تو یہ ان کے اوسان بحال کر کے دوسروں کی خوش نودی حاصل کرے گا۔

اس معاملے نے اُن طبّی اداروں کے ناقص نظام پر بھی روشنی ڈالی ہے جہاں ہوگل کام کیا کرتا تھا۔ اس لیے کہ ان اداروں کی انتظامیہ کو موت کے منہ میں دھکیلے جانے والوں کی فوتگی میں کسی قسم کا مسئلہ نظر نہیں آیا۔

سال 2006 میں اسٹیفن لیٹیئر نام ی شخص کو 28 مریضوں کو موت کی نیند سلانے کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس سے ایک سال قبل ایک خاتون نرس کے خلاف پانچ برس قید کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ نرس نے پانچ افراد کو ضرورت سے زیادہ مقدار میں دوا دے دی تھی جس کے نتیجے میں وہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں