مصر: سامی عنان کو صدارتی انتخابات سے دُور کیے جانے کی وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر میں سابق چیف آف اسٹاف جنرل سامی عنان کو آئندہ صدارتی انتخابات سے باہر کیے جانے اور ان کا نام ووٹرز کی مطلوبہ حمایت کے لیے ڈیٹا بیس سے حذف کیے جانے کی وجوہات سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

مصر میں اسٹیٹ انفارمیشن سروس SIS نے جمعرات کے روز بتایا کہ اسے انتخابات کے قومی کمیشن کی جانب سے ایک بیان موصول ہوا ہے جس میں جنرل سامی حافظ احمد عنان کے حوالے سے قانونی موقف کو واضح کیا گیا ہے۔

انتخابی کمیشن کے مطابق سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ جنرل عنان کی فوجی ملازمت اختتام پذیر نہیں ہوئی ہے اور ابھی تک مسلح افواج کے افسران میں شامل ہیں۔

کمیشن نے بتایا ہے کہ افسران کی خدمات سے متعلق قانون کی شق نمبر 103 افسران کی جانب سے سیاسی آراء کے اظہار، سیاسی سرگرمیوں میں مشغولیت، سیاسی جماعتوں، تنظیموں یا سوسائٹیز سے تعلق رکھنے پر پابندی عائد کرتی ہے۔ علاوہ ازیں افسران کی جانب سے جماعتی اجلاسوں یا انتخابی مہم میں شرکت کو بھی ممنوع قرار دیتی ہے۔

مذکورہ قانون کی شق نمبر 147 کے تحت مسلح افواج کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کام کے دوران خصوصی تجربہ حاصل کرنے والے بعض ریٹائرڈ افسران کو طلب کر سکتی ہیں۔ قانون کے مطابق ریٹائرد افسران کو طلب کرنے کی صورت میں وہ پھر سے خدمات کی انجام دہی پر لوٹ آئیں گے اور تمام تر اصول و ضوابط کے پابند ہوں گے۔

کمیشن کے مطابق مذکورہ شقوں کی روشنی میں مسلح افواج کے اہل کار اور افسران جن میں طلب کیے جانے والے عہدے دار بھی شامل ہیں، ان کے لیے اپنی سروس کے خاتمے یا طلب کیے جانے کی مدت کے خاتمے سے قبل سیاسی حقوق کا جواز نہیں ہے۔

انتخابی کمیشن نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ جنرل سامی حافظ احمد عنان ابھی تک عسکری خدمت سے وابستہ ہیں اور ان کے لیے سیاسی حقوق کی انجام دہی ممنوع ہے۔ ووٹرز کی حمایت کی فہرست کے لیے ان کے نام کا اندراج نا حق اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں