سعودی عرب میں جاری بدعنوانی مخالف مہم میں آیندہ کیا ہوگا؟
سعودی عرب میں بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا پہلا مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچنے کو ہے۔ انسداد بدعنوانی کمیشن نے حالیہ دنوں کے دوران میں متعدد زیر حراست افراد کو رہا کردیا ہے اور اب وہ مستقبل میں مزید زیر حراست افراد کے کیس نمٹانے کے لیے بات چیت کررہا ہے۔
سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے بیشتر نے قصور وار ہونے کا اقرار کیا ہے اور وہ حکومت کے ساتھ اپنے معاملات نمٹانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس مرحلے میں تمام زیر حراست افراد کو بات چیت اور ابلاغ کی اجازت دی گئی تھی اور انھیں کسی بھی طرح سے ڈرایا دھمکایا نہیں گیا اور انھیں مفاہمتی سمجھوتے کو دست خط سے قبل کسی بھی وقت مسترد کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
اب اس مرحلے کی مدت کے خاتمے کے بعد حکومت اپنے تصفیہ طلب امور طے کرنے کے خواہاں افراد کی فائلیں بند کرنے پر غور کررہی ہے۔اس کے بعد انسداد بدعنوانی کمیٹی کا کام ایک نئے مرحلے میں داخل ہوجائے گا اور زیر حراست افراد کے کیس پبلک پراسیکیوشن کو بھیج دیے جائیں گے۔
پھر پبلک پراسیکیوشن کا دفتر کمیٹی کی جانب سے بھیجے گئے ان کیسوں کا جائزہ لے گا ۔ ان سے متعلق قانونی تقاضوں کو پورا کرے گا ۔ ملزمان کے خلاف تحقیقات کو مکمل کیا جائے گا اور ان کے خلاف عدالت میں شواہد پیش کیے جائیں گے۔
سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے 9 نومبر 2017ء کو گرفتار کیے گئے افراد سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور انسداد بدعنوانی کمیشن نے 320 افراد کو طلب کیا تھا۔کمیشن نے ان میں سے متعدد افراد کے کیس سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر ( اٹارنی جنرل) کو بھیج دیے تھے۔کرپشن کے الزامات میں حراست میں لیے گئے بیشتر افراد نے اپنے اپنے معاملے کے تصفیے سے اتفاق کیا تھا اور سرکاری کمیٹی نے بھی ان سے سرکاری فنڈز کی وصولی کے لیے سمجھوتے طے کر لیے ہیں۔
اگر کسی ملزم سے کوئی سمجھوتا طے نہیں پاجاتا یا اگر زیر حراست قصور وار نہ ہونے کا بیان دیتا ہے تو پھر اس کا کیس اٹارنی جنرل کو اس کے خلاف قانونی طریق کار کی تکمیل کے لیے بھیجا جائے گا۔
پبلک پراسیکیوشن کا ادارہ کمیٹی کی جانب سے بھیجے جانے والے کیسوں کا جائزہ لے گا اور انھیں طے شدہ طریق کار کے مطابق مکمل کرے گا۔اس دوران میں ملزم سے تحقیقات جاری رکھی جائے گی۔اس کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت بدعنوانیوں کے الزامات کے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔اگر زیر حراست ملزم کے خلاف مضبوط اور ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پھر اس کو چھے ماہ تک معطل کیا جاسکتا ہے یا پھر کسی مجاز عدالت کے فیصلے کے مطابق اس کو معطل رکھا جاسکتا ہے۔
اگر پبلک پراسیکیوشن اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں ثبوت ناکافی ہیں اور اس کے خلاف عدالت میں قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی تو پھر ملزم کو رہا کر دیا جائے گا۔ بہ صورت دیگر اس کے خلاف قانونی طریق کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔
سعودی اٹارنی جنرل کے بہ قول ملزموں کو ضابطہ فوجداری کے تحت متعدد حقوق حاصل ہیں۔ وہ تفتیش کے مرحلے اور سماعت کے دوران میں بھی ایک ایجنٹ یا وکیل کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں ۔کسی ملزم کو کسی مجاز اتھارٹی کے حکم کے بغیر چھے ماہ سے زیادہ عرصے تک حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔نیز اس کو جسمانی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ،اس کو زخمی نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کی توہین وتحقیر کی جاسکتی ہے۔