کسی بھی فرانسیسی داعشی کی پھانسی کو روکا جائے گا : پیرس
فرانس کی وزیر انصاف نکول بیلوبے کا کہنا ہے کہ اگر عراق یا شام میں کسی بھی شدت پسند فرانسیسی کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا تو اُن کا ملک مداخلت کرے گا۔
فرانس کا یہ موقف رواں ماہ ایک عراقی عدالت کے اُس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں ایک مراکشی نژاد جرمن خاتون شہری کو داعش تنظیم سے تعلق کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
یورپی یونین نے طویل عرصے سے سزائے موت کی مخالفت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ یونین کے تمام رکن ممالک سزائے موت کو ختم کر چکے ہیں۔
اتوار کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں بیلوبے کا کہنا تھا کہ اگر فرانس کے کسی شہری کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سامنے آیا تو پیرس متعلقہ ریاست سے مذاکرات کرے گا۔
ان مذاکرات میں شہری کو حوالے کیے جانے کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ فرانس کے اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ عراق اور شام میں 676 کے قریب فرانسیسی موجود ہیں جن میں 295 خواتین ہیں۔