مراکش کی ساحلی حدود سے 16تارکین ِوطن کی لاشیں برآمد
مراکش کی ریسکیو سروسز نے اسپین کے علاقے میلیلا کے نزدیک ساحلی حدود میں ڈوب مرنے والے سولہ تارکینِ وطن کی لاشیں نکال لی ہیں۔
مراکشی اور ہسپانوی حکام کے مطابق مرنے والوں میں تین عورتیں بھی شامل ہیں اور ان کی لاشیں مراکش کے شہر ندور میں ایک مردہ خانے میں پہنچا دی گئی ہیں۔ان میں ایک مراکشی تھا اور باقی تمام سب صحارا افریقا سے تعلق رکھتے تھے۔
میلیلا کی انتظامیہ کی ایک خاتون ترجمان نے قبل ازیں کہا تھا کہ مراکش کے پانیوں سے کم سے کم بیس لاشیں نکالی گئی ہیں۔ہفتے کے روز ایک ہسپانوی جہاز نے سمندر میں ڈوبنے والے ان تارکین ِوطن کی لاشوں کا پتا چلا یا تھا اور اس نے دونوں ممالک کے امدادی اداروں کو ان کی اطلاع دی تھی۔
ہسپانوی پولیس کی سمندر میں گشت کرنے والی ایک کشتی نے ایک اور لاش نکال لی ہے اور اس کو مراکش کی سرحد کے نزدیک واقع اسپین کے علاقے میلیلا میں منتقل کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ غیر قانونی تارکین بحر متوسط کے مغربی روٹ کو یورپ پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔وہ شمالی افریقا سے سمندر عبور کرکے اسپین کے جنوبی خشک علاقے میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے دوسرے یورپی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی مائیگریشن تنظیم کے مطابق اسپین یورپ میں غیر قانونی داخلے کے لیے اٹلی کے بعد دوسرا ملک بن چکا ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں تارکین ِوطن پُر خطر سمندری سفر کے بعد پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس سال اب تک اسپین میں 1279 تارکینِ وطن کی آمد ہوچکی ہے ۔اٹلی میں 4256 غیر قانونی تارکین ِوطن پہنچ چکے ہیں۔
مراکش کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ عمر ناجی کے بہ قول انسانی اسمگلر تارکین ِ وطن کو سمندری راستے سے اسپین پہنچانے کے لیے فی کس تین ہزار یورو وصول کرتے ہیں اور یہ سب کچھ حکام کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔