.

مصر میں چار سالہ بچی زیادتی کی کوشش میں ناکامی کے بعد قتل

ننھی زینب کے المناک قتل کا منظر مصرمیں دہرا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شہر قصور میں سات سالہ بچی زینب کی عصمت ریزی کےبعد وحشیانہ قتل کے واقعے نے پوری دنیا کو ہلاک کر رکھ دیا تھا مگر بربریت کا شکار ہونے والی ننھی زینب تنہا نہیں۔ انسانی درندگی کاشکار ہونے والی بچیوں کی فہرست میں ایک نیا نام مصر سے سامنے آیا ہے جہاں ایک درندہ نما شخص نے چار سالہ بچی کی عصمت ریزی کی کوشش میں ناکامی کے بعد اسے قتل کر کے اس کی لاش گھر کے بیڈ روم میں چھپا دی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر میں ہفتے کے روز یہ دل سوز واقعہ شمالی گورنری کے المنوفیہ کے نواحی علاقے قویسنا کی مصطائی کالونی میں پیش آیا جب ایک درندہ نما انسان نے چار سالہ بچی رودنیا عبدالنبی عبدہ کو گھر کے قریب سے اغواء کر لیا۔ بچی کے والدین نے آس پاس اسے تلاش کی کوشش شروع کی اور پڑوسیوں کو بتایا کہ ان کی بچی کا کوئی پتا نہیں چل رہا۔

ایک گھر کے باہر خون کے کچھ چھینٹوں پر لوگوں کو شبہ ہوا۔ یہ گھر حال ہی میں جیل سے رہا ہونے والے ایک شخص کا تھا۔ اس سے بچی کے بارے میں پوچھا تو اس نے انکار کیا مگر اس کے انکار کا اندازہ ایسا تھا کہ اس پر شبہ ہونے لگا۔ اہل محلہ نے گھر کی تلاشی دینے کا مطالبہ کیا تو اس نے اجازت نہ دی۔

جب تلاشی کا اصرار بہت بڑھ گیا تو اس شخص نے گھر کی تلاشی کی اجازت دے دی۔ گھر میں تلاشی کے دوران ایک بستر پر خون کے دھبے نظر آئے۔ جب اسے پوچھا گیا کہ یہ خون کیسا ہے تو اس نے کہا یہ ایک بلی کا خون ہے جو چند دن پہلے یہاں مرگئی تھی۔

جب ملزم کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوگیا تو اس کے بیٹے نے سولہ سالہ حسان صابر الشاذلی عامر نے سب بتا دیا اور کہا کہ اس نے عبدہ کو گھر کے باہر سے موبائل پر گیم کھیلنے کے بہانے ورغلایا۔ گھر کے اندر لانے لانے کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی گئی مگر وہ ایسا نہ کرسکا اور بچی کو قتل کرکے اس کا جسد خاکی ایک صندوق میں ڈال کر بیڈ کے نیچے چھپا دیا۔

پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم کے گھر سے ملنے والے خون کے نمونے لیبارٹری میں ٹیسٹ کیے تو پتا چلا کہ وہ خون بلی کا نہیں بلکہ ننھی مقتولہ کا ہے۔

بے رحمی سے قتل

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں ناکام رہا۔ بھانڈہ پھوٹ جانے کی ڈر سے اس نے ایک پتھر اٹھایا اور بچی کے سر پر دے مارا۔ وہ غش کھا کر زمین پر گر پڑی اور کچھ ہی دیر میں دم توڑ گئی۔

جب اس کی موت کا یقین ہوگیا تو اسے اٹھا کر ایک بیڈ کے نیچے صندوق میں رکھ دیا گیا۔ملزم کا کہنا ہے کہ وہ بچی کی لاش کو گاؤں سے دور لے جا کر پھگینا چاہتا تھا۔ پوسٹ مارٹم مکمل کرنے کے بعد بچی کو دفن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔