ایران میں معروف شیعہ عالم کی گرفتاری کے خلاف عراق میں احتجاجی مظاہرے
ایران میں معروف شیعہ عالم آیت اللہ سید الشیرازی کی گرفتاری کے خلاف عراق کے جنوبی شہر کربلا میں ایرانی قونصل خانے کے سامنے سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔انھیں مبینہ طور پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے۔
کربلا میں احتجاجی مظاہرے میں بعض شیعہ علماء بھی شریک تھے ۔انھوں نے ایران میں نافذ ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور علامہ شیرازی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے عراقی حکومت کو ایران میں ان کی گرفتار ی کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسی کی اجازت کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
فارسی میڈیا کے ذرائع کے مطابق ایران کے شہر قُم میں علامہ شیرازی کی گرفتاری کے وقت سکیورٹی فورسز نے تشدد کا راستہ اپنایا ۔سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی کار روکی ، ان کی توہین کی اور ان کی پگڑی زمین پر گرادی ۔ پھر وہ انھیں گرفتار کرکے کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی اس شیعہ عالم کی گرفتاری کے خلاف ایرانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا گیا ہے ۔
السید الشیرازی ایرانی نژاد شیعہ عالم آیت اللہ العظمیٰ حسین الشیرازی کے فرزند ہیں۔ وہ ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کے سخت مخالف ہیں اور وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے الگ ہونا چاہیے۔ وہ ایران اور عراق دونوں ممالک کے اہل تشیع میں بہت مقبول ہیں۔
ایرانی حکام نے فوری طور پر ان کی گرفتاری کی وجہ نہیں بتائی ہے۔ تاہم ان سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ان کی 2017ء کے آخر میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔اس میں انھوں نے ولایت فقیہ کے اختیارات کے بارے میں گفتگو کی تھی ،انھیں ممکنہ طور پر اسی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔
السید الشیرازی ایران میں 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاجی تحریک کے بعد سے ایرانی نظام کی مخالفت کرتے چلے آر ہے ہیں۔