.

فرانس شام میں کردوں کی حمایت سے باز رہے ورنہ نشانہ بنے گا:ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے فرانس کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں کرد جنگجوؤں کی حمایت سے باز رہے فرانسیسی فوج بھی ترکی کا نشانہ بن سکتی ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم بکر بوزداج نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ فرانس کی طرف سے شمالی شام میں استحکام کے لیے کردوں کی معاونت کا عہد کرد ملیشیا کی قیادت میں سرگرم عناصرکو مضبوط کرنےاور ان کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش ہے۔ ترکی کردوں کی دہشت گردی روکنے کے لیے آپریشن جاری رکھے گا۔ اگر فرانس درمیان میں آیا تو وہ بھی نشانہ بنے گا۔

ترکی نے فرانس کی جانب سے سیرین ڈیموکریٹک فورس کی مدد اور کرد پروٹیکشن یونٹس کی حمایت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کردوں کی حمایت دہشت گردی کی مدد تصور کی جائے گی۔

قبل ازیں ترک صدر طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کردوں کی حمایت کرکے فرانس کلی طورپر ایک غلط راہ پر چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کےدوران ان کی فرانسیسی ہم منصب عمانول ماکروں کے ساتھ گرما گرم بات چیت کا امکان ہے۔