فرانس شام میں کردوں کی حمایت سے باز رہے ورنہ نشانہ بنے گا:ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی نے فرانس کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں کرد جنگجوؤں کی حمایت سے باز رہے فرانسیسی فوج بھی ترکی کا نشانہ بن سکتی ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم بکر بوزداج نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ فرانس کی طرف سے شمالی شام میں استحکام کے لیے کردوں کی معاونت کا عہد کرد ملیشیا کی قیادت میں سرگرم عناصرکو مضبوط کرنےاور ان کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش ہے۔ ترکی کردوں کی دہشت گردی روکنے کے لیے آپریشن جاری رکھے گا۔ اگر فرانس درمیان میں آیا تو وہ بھی نشانہ بنے گا۔

ترکی نے فرانس کی جانب سے سیرین ڈیموکریٹک فورس کی مدد اور کرد پروٹیکشن یونٹس کی حمایت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کردوں کی حمایت دہشت گردی کی مدد تصور کی جائے گی۔

قبل ازیں ترک صدر طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کردوں کی حمایت کرکے فرانس کلی طورپر ایک غلط راہ پر چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کےدوران ان کی فرانسیسی ہم منصب عمانول ماکروں کے ساتھ گرما گرم بات چیت کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں