.

روسی مندوب نے امریکا اور روس کے بیچ جنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں روسی سفیر وسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ "اولین ترجیح جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے"۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے بعد کہی۔

امریکا اور روس کے درمیان جنگ چھڑنے کے امکان سے متعلق روسی مندوب کا کہنا تھا کہ "ہم کسی بھی چیز کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے"۔

ادھر امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑے حملے کے تیاری کے سلسلے میں سب سے بڑے بحری اور فضائی بیڑے کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی بحری جنگی جہاز "یو ایس ایس ڈونلڈ کُک" تقریبا 60 "ٹوم ہاک" میزائلوں کے ساتھ بحیرہ روم میں مستعد حالت میں ہے۔ اس کے علاوہ تین دیگر بحری جہاز بھی ہیں۔ مزید برآن ضخیم طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین" بدھ کے روز امریکی ریاست ورجینیا سے خطّے کی جانب روانہ ہو گیا۔ جہاز پر تقریبا 90 لڑاکا طیارے ، پانچ جنگی جہاز اور ٹوم ہاک میزائل موجود ہیں۔

روسی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ "مغرب کی عسکری مداخلت انتہائی خطرناک ہو گی کیوں کہ وہاں ہمارے فوجی موجود ہیں۔ یہ خطرات اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے"۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سے اپیل کی تھی کہ شام کی صورت حال کو کنٹرول سے باہر جانے سے روکا جائے۔ انہوں نے حالیہ پیچیدہ تعطل کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ادھر ماسکو میں کرملن ہاؤس نے باور کرایا ہے کہ شام میں روس اور امریکی فوجوں کی کارروائیوں کے حوالے سے دونوں ملکوں کے عسکری اہل کاروں کے درمیان ایک خصوصی ٹیلیفون لائن کے ذریعے رابطے کا چینل اس وقت "سرگرم" ہے تا کہ حادثات سے بچا جا سکے۔