پسند کی شادی کرنے پر سوڈانی خاتون کو 75 کوڑوں کی سزا
سوڈان کی ایک عدالت کے حکم پر والد کی منشاء کے بغیر شادی کرنے کی پاداش میں ایک لڑکی کو چھ ماہ قید کےبعد 75 کوڑوں کی سزا دی گئی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق دارفر صوبے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو جیل سے ام درمان پولیس سینٹر لایا گیا جہاں اس کی خاتون وکیل، اہل خانہ اور انسانی حقوق کے مندوبین کے سامنے 75 کوڑے مارے گئے۔
خاتون کی وکیل عزہ محمد احمد نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس کی موکلہ کو پسند کی شادی کرنے پر پہلے چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی جو اس نے پوری کی۔ اس کے بعد اسے 75 کوڑے مارے گئے۔
عزہ کے مطابق خاتون کو اپنی مرضی کی شادی کرنے پر اس کے والد کی طرف سے دی کئی درخواست پر سزا دی گئی۔ والد کی طرف سے عدالت میں درخواست دی تھی کہ اس کی بیٹی نے مرضی سے ایک شخص کے ساتھ شادی کر رکھی ہے جوہ کہ اس کے بہ قول غیر شرعی ہے۔ خاتون کا ایک بچہ جس کی عمر دو ماہ ہے کوڑے مارے جانے کے وقت عدالت میں خاتون وکیل نے اٹھا رکھا تھا۔ اس کے شوہر کو بھی عدالت نے دو سال قید کی سزا سنائی ہے اور وہ جیل میں بند ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والے اداروں نے سوڈانی خاتون کو پسند کی شادی کرنے پر دی گئی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی قرار دیا ہے۔