"السروری" گروپ کے بن لادن اور الزرقاوی سے تعلقات کا سراغ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے لگا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

چند ماہ قبل امریکا کے طویل دورے کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ’السروری‘ گروپ کو اخوان المسلمون سے بھی زیادہ مشرق وسطیٰ کا انتہا پسند گروپ قرار دیا تھا۔

امریکی اخبار ’ٹائمز‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اسلام کے پرچارک گروپوں میں السروری سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قانون کی رو سے السروری گرپو مجرم ہے اور جو اس گروپ سے وابستہ پکڑے جانے والے افراد کے خلاف عدالتوں میں مقدمات قائم کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے السروری گروپ، الزرقاوی اور القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے درمیان باہمی مراسم کا ایک تفصیلی رپورٹ میں تذکرہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد نے جریدہ ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ السروری، عراق کے مسلح شدت پسند گروپوں جن میں بالخصوص الزرقاوی، القاعدہ، اخوان المسلمون کا عسکری گروپ جیش الاسلام اور کئی دوسرے گروپوں کے درمیان گہرے مراسم پائے گئے ہیں۔

اس بات کا انکشاف ایبٹ آباد سے اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ سے ملنے والے دستاویزات سے بھی ہوتا ہے۔

انہی دستاویزات کا کچھ حصہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہوا جس میں سلفی جہادی جیسا کہ القاعدہ اور داعش جیسے مسلح شدت پسند گروپ اور السروری فرقے کے مسلح گروپوں کا تذکرہ موجود ہے۔ یہ گروپ تکفیر کو عام کرنے کے ساتھ منبرو محراب سے خود کش حملوں کی ترویج میں پیش پیش رہے ہیں۔

ایبٹ آباد سے ملنے والی دستاویزات میں القاعدہ کے ایک لیڈر ’عطیۃ اللہ اللیبی’ کا ایک بیان ملتا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ عراق میں السروری گروپ میں پھوٹ پائی جا رہی ہے۔ سعودی عرب میں موجود السروری گروپ کے عناصر الزرقاوی اور اس کے نائب اب عمر البغدادی کی حمایت کرتے ہیں جب کہ ایک گروپ خود کو ’جی ایس‘ کے نام سے ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ ’جی ایس‘ دراصل دو کمانڈروں کےناموں کا مخفف ہے۔ ان دونوں نے السروری گروپ کو کروڑوں ریال کی مالی مدد مہیا کی۔

السروری گروپ سے وابستہ عناصرمیں سے جن جن کے نام تفصیل کے ساتھ جاری نہیں کیے جا رہےہیں ان مں سے بعض سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ان میں سے بیشتر دعوتی میدان میں سرگرم رہے ہیں جب کہ بعض کئی کئی سال تک جیلوں میں قید کاٹ چکےہیں۔

السروری گروپ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا انکشاف القاعدہ کے ایک کمانڈر کے مکتوبات سے ہوتا ہے جو انہوں نے مصعب الزرقاوی کو لکھے۔ الزرقاوی اس وقت عراق میں ’دولت اسلامیہ عراق‘ نامی تنظیم کا سربراہ تھا۔ اس کے بعد اس نے اس تنظیم کا نام تبدیل کر کے ’تنظیم القاعدہ بلاد الرافدین‘ رکھ دیا۔ سنہ 2006 اور 2007ء میں یہ اختلاف اس حد تک شدت اختیار کر گیا کہ القاعدہ سے وابستہ السروری گروپ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہے۔

القاعدہ کمانڈر عطیۃ اللہ اللیبی کے نام اپنے مکتوب میں لکھتا ہے کہ میں نے حال ہی میں عراق کے اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والے کئی علماء ومشائخ سے صفویوں کے خلاف جنگ کے لیے ملاقات کی۔ ان میں سے بیشتر نے عراق کے مسلمان بھائیوں کی نصرت کی حمایت کی۔ اس میں آپ کے ان مشائخ کے نام مکتوبات پل کا کام کرسکتے ہیں۔

مکتوب میں مزید لکھا کہ ’عراق میں ملنے والے اہل سنت کے سرکردہ لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں اہم معلومت فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض جاری واقعات کے تصورات تھے اور ان کے حوالے سے میں نے ’الشیخ ابو ظفر ’ب ب‘ حفظہ اللہ سے استفادہ کیا تھا۔ ہم نے ایک طویل رپورٹ مرتب کرنے پر اتفاق کیا تاکہ عراق میں اہل سنت کے پیروکاروں کو درپیش مشکلات اور ان کی نصرت کے لیے کوئی جامع پلان تیار کیا جاسکے۔

الزرقاوی کے ثالثی کی حیثیت سے خط کتابت کرنے والے القاعدہ لیڈر نے 18 ذی القعدہ 1427ھ کو ’عراق کے اہل سنت کی پکار اور اس پر مسلم مہ کی ذمہ داری‘ کے عنوان سے ایک مکتوب جاری کیا۔ یہ مکتوب ایک پمفلٹ کی شکل میں تھا جس میں چار ماہ کی مسلسل کوششوں سے 70 اہم سنی شخصیات کے دستخط کرانے کے لیے ان کے سامنے پیش کیا گیا مگر ان میں سے 38 نے اس پر دستخط کیے اور باقی شکصیات نے مختلف وجوہ کی بنیاد پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھ۔

عطیۃ اللہ اللیبی کی طرف مرتب کردہ رپورٹ کی جو تفصیلات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ السروری گروپ سے تعلق رکھنے والے تمام اہم رہ نماؤں نے اس منشر کی حمایت کی اور الشیخ ’ع ب‘ کا مکتوب پڑھنے کے بعد رابطہ میں رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے عطیۃ اللہ کو دعائیں دیں اور لکھا کہ انہوں نے ان کی نظر میں اپنا مقام و مرتبہ بلند کردیا ہے۔

عطٰیۃ اللہ اللیبی کے مندوب نے اپنے ایک دوسرے کمانڈر ابو ظفر کا بیان نقل کیا جس میں اس نے یہ وضاحت کی کہ السروری دھارے نے سلفی مسلک سے تعلیمات پائی ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے اخوان المسلمون سے بھی رہ نمائی حاصل کی تاہم اس کا منھج سلفی ہی ہے۔ ابو ظفر السروری گروپ نے ان رہ نماؤں میں ثابت قدم ہے جو ریاست کی تکفیر کرتے ہیں۔

ان کے خیال میں موجودہ حکومتی نظام غیر شرعی ہے تاہم ابو ظفر اور دیگر السروریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خاموش رہنے کی پالیسی زیادہ مناسب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ السروری گروپ کے بعض بڑے بڑے لیڈروں میں کوئی باہمی رابطہ یا تعلقات نہیں۔

السروری گروپ کے تکفیری نظریات خود ساختہ نوعیت کے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تکفیر سے وہ آسانی سے ملت اسلامیہ سے الگ ہوسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک جہاد سب سے بڑا شرعی فریضہ ہے۔ وہ مسلح تحریک شروع کرنے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو کفر اور دین اسلام کا دشمن نظام خیال کرتے ہیں مگر عملی میدان میں وہ انتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔

ایبٹ آباد سے ملنے والی دستاویزات سے ابو عثمان القحطانی نامی القاعدہ کے ایک مکتوب کا بھی پتا چلتا ہے۔

سنہ 2007ء میں لکھے گئے اس مکتوب میں القحطانی نے السروری گروپ پر شدید تنقید کی۔ اس نے ’السروری گروپ کی سازشیں، حسد اور مسلسل چال بازی جاری‘ کے عنوان سے سنہ 1980ء کے آخر سے افغانستان میں مارے جانے والے عبداللہ عزام کے قتل تک السروری گروپ کی آغاز سے انجام تک پوری کہانی لکھی ہے۔

اس میں بیان کردہ تفصیلات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نائن الیون کے واقعات کے بعد السروری جہادی گروپ ایک نئی شکل میں سامنے آیا۔ انہوں نے خود کو معتدل اسلامی دھارے کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی اور اس موقع پر اپنی نئی اٹھان کے لیےغنیمت جانا۔

نان الیون کے واقعات سے چند ماہ قبل سعودی عرب میں موجود ایک السروری لیڈر نے انکشاف کیا کہ اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کی زیرنگرانی افغانستان میں ان کے متعدد عسکری تربیتی مراکز مجود ہیں۔ السروری لیڈر نے لکھا کہ انہوں نے سنہ 2001ء میں امریکا میں ہونے والے حملوں سے چند ماہ قبل افغانستان کے شہروں قندھار اور جلال آباد کے دورے کیے جہاں ان کی ملاقات اسامہ بن لادن سے بھی ہوئی۔ بن لادن نے السروری گروپ کے تربیتی مراکز کا خیر مقدم کیا اور افغانستان میں السروری گروپ کی ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں