.

ورلڈ کپ میں شکست، کروشین صدر فرط جذبات میں پھوٹ پڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز روس میں کھیلے جانے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں فرانس کی فاتح عالم کہلانے والی فٹ بال ٹیم کا مقابلہ ایک چھوٹے یورپی ملک کروشیا کی کم زور ٹیم کے ساتھ تھا۔ فرانسیسی ٹیم نے دو اور چار گول کے مقابلے میں یہ میچ جیت لیا۔ دوسری جانب کروشیا کے فٹ بال شائقین کے لیے فرانس کی جیت اور اپنی ٹیم کی ہار کسی بڑے صدمے سے کم نہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات پر بھی فخر ہےکہ ان کی ٹیم کم زور ہونے کے باوجود نہ صرف فائنل میں پہنچی بلکہ بھرپور کھیل کا مظاہرہ کیا۔

فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں کئی عالمی رہ نما موجود تھے۔ ان میں روسی صدر ولادی میر پوتین، فرانس کے عمانویل میکروں اور کروشیا کی خاتون صدر اور ملکہ حسینہ ’کولینڈا گرابگرا کیٹاروفیٹک‘ بھی موجود تھیں۔

جب ریفری نے فرانسیسی ٹیم کی جیت اور کروشین کے ہارنے کی آخری سیٹی بجائی تو عوام کی طرح کروشین صدر بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ میچ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ٹیم کے کپتان ماھر لوکا موڈریک کو گلے لگایا اور انہیں ہارنے پر کوسنے کے بجائے آخر تک مقابلہ کرنے پر داد تحسین پیش کی۔ تاہم اس موقع پر صدر کیٹاروفیٹک کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی اور یہ منظر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں دیکھا گیا۔

وہ ایک طرف تو فرانسیسی ٹیم اور اس کے کپتان کو جیت پر مبارک باد پیش کررہی تھیں تو ساتھ ہی اپنی ٹیم کے ہیروز کو بھی کھیل کا کامیاب مظاہرہ کرنے پران کی حوصلہ افزائی کررہی تھیں۔

خیال رہے کہ کروشین فٹ بالر موڈریک کو میچ میں بہترین کار کردگی پر مین آف دی میچ کا لقب دیا گیا۔ وہ فرانسیسی ٹیم اور ریال میڈریڈ کے کریسٹین کاریمبو کے بعد پہلے کم عمر کھلاڑی ہیں جواس مقام پر پہنچے ہیں۔