.

الحدیدہ کی گورنری اور بندرگاہ کا کنٹرول یمنی حکومت کے حوالے کیا جائے: سعودی عرب

شاہ سلمان کے زیر ِصدارت نیوم میں کابینہ کا پہلا اجلاس، کوئٹہ، کابل اور ٹورنٹو میں دہشت گردی کے حملوں کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے یمن کی الحدیدہ گورنری اوراس کی بندرگاہ کا کنٹرول صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی کابینہ کا اجلاس شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت منگل کی دوپہر تبوک ریجن میں واقع زیر تعمیر شہر نیوم میں ہوا ہے۔ کابینہ نے اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق مختلف رپورٹس کا جائزہ لیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق میڈیا کے وزیر عواد بن صالح العواد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کی الحدیدہ کی بندرگاہ کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں سعودی عرب کے ایک آئیل ٹینکر پر دہشت گردوں کے ناکام حملے سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی دہشت گرد ملیشیا سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو درپیش خطرے کی عکاسی ہوتی ہے اور اس میں اب کسی کو کسی قسم کا شک اور مغالطہ نہیں رہنا چاہیے۔

کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ خام تیل کے ٹینکروں پر حملوں کی دھمکیوں سے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات بڑھ گئے ہیں اور ان سے اس امر کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کہ الحدیدہ کی گورنری اور اس کی بندرگاہ کو یمنی حکومت کے حوالے کیا جائےتاکہ اس کو بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر دہشت گردی کے حملوں کے لیے ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔

سعودی کابینہ نے پاکستان کے شہر کوئٹہ میں 25 جولائی کو ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر خودکش بم دھماکے، افغان دارالحکومت کابل کے مغرب میں ایک سکیورٹی قافلے پر حملے اور کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر پاکستان ، افغانستان اور کینیڈا کی حکومتوں سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی ہے۔کابینہ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حملوں کا شکار ان ممالک سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

کابینہ نے شاہ سلمان کا یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف دو جنگی کارروائیوں فیصلہ کن طوفان اور امید کی بحالی میں جانیں قربان کرنے والے یمنی اور سوڈانی فوجیوں کے خاندانوں کے ڈیڑھ ہزار افراد کی حج کی میزبانی کا حکم دینے پر شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خادم الحرمین الشریفین کے مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر اور شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی طور پر نیک کاموں ہی کا تسلسل ہے۔اس طرح یمن کی علاقائی سالمیت اور اتحاد کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو ایک طرح سے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

عواد بن صالح العواد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ کابینہ نے عالمی مالیاتی فنڈ کی انتظامی کونسل کے اقدام کو سراہا ہے۔اس کونسل نے سعودی حکومت کی ویژن 2030ء کے تحت کی جانے والی اقتصادی اصلاحات کی تحسین کی ہے۔ سعودی عرب میں وسیع تر اصلاحات کے حامل اس ویژن پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات کی روشنی میں ولی عہد اور سعودی وزارتی کونسل کے نائب صدر شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز اتوار کو تبوک ریجن میں واقع زیر تعمیر بڑے شہر نیوم میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے تھے۔سعودی ولی عہد نے اکتوبر 2017ء میں دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ’’ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس ‘‘میں مملکت کے شمال مغرب میں واقع اس دور دراز علاقے میں نیوم کے نام سے نیا جدید صنعتی شہر بسانے کا اعلان کیا تھا۔

اس بڑے منصوبے کی تعمیر پر سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سے پانچ سو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔اس کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار بھی نیوم میں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔تبوک میں مصر کی سرحد کے نزدیک ساڑھے چھبیس ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں یہ شہر بسایا جارہا ہے۔