شام میں اِدلب کے بحران کے "پُرفتن اثرات" کے حوالے سے اقوام متحدہ کی تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں انسانی امور کی رابطہ کاری سے متعلق دفتر کے ڈائریکٹر جان گِنگ نے خبردار کیا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے اِدلب میں اپوزیشن پر کیا جانے والا کوئی بھی بڑا حملہ غیر معمولی نوعیت کے انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

شامی حکومت اس وقت اِدلب صوبے میں حملے کی تیاری کر رہی ہے جہاں تقریبا 30 لاکھ نفوس آباد ہیں۔ یہاں القاعدہ تنظیم اور شامی اپوزیشن کے پیروکار بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

ایک طرف شامی حکومت اِدلب کے اطراف عسکری کُمک جمع کرنے کے ذریعے صوبے کے دروازے پر دستک دے رہی ہے تو دوسری جانب روس نے شام میں اپنے عہدے داران اور افسران کے ذریعے اِدلب میں مسلح اپوزیشن کے گروپوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کوشش اس بات کی ہے کہ کسی بھی عسکری کارروائی سے قبل مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کر لیا جائے تا کہ صوبے سے نقل مکانی کی ایک بڑی لہر سے اجتناب برتا جا سکے جس کی منزل غالبا ترکی ہو گی۔

ایسے میں جب کہ شامی حکومت اِدلب میں طبلِ جنگ بجانے کے درپے ہے ۔۔۔ صوبے کا انجام ماسکو اور انقرہ کی جانب سے جاری دو علاحدہ مذاکرات پر موقوف ہے۔

روس کے مذاکرات مسلح شامی گروپوں کے ساتھ جاری ہیں تا کہ غوطہ شرقیہ اور درعا تصفیے کی طرز پر کوئی پرامن حل سامنے آ جائے۔ دوسری جانب ترکی کی بات چیت "هيئۃ تحرير الشام" کے ساتھ ہو رہی ہے تا کہ تنظیم خود کو تحلیل کر کے بقیہ شامی گروپوں کے ساتھ ضم ہو جائے۔

انقرہ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ فریقین کے بیچ معاہدے کی مہلت میں توسیع کی جائے تا کہ "هيئۃ تحرير الشام" کی گتھی کو سلجھایا جا سکے۔

گزشتہ کئی ماہ سے یہ تنظیم خود کو تحلیل کرنے اور "الجبہہ الوطنیہ للتحریر" کے نام سے دیگر گروپوں کے ساتھ ضم ہونے سے متعلق ترکی کی پیش کش کو مسترد کرتی آ رہی ہے۔

حالیہ مذاکرات اور اِدلب کے اطراف شامی فوج کے اکٹھا ہونے کے بیچ روس نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے تا کہ اِدلب صوبے کی صورت حال کے حوالے سے مشاورت کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں