یو اے ای کا دہشت گردی مخالف مؤقف واضح ،ایران کے دعوے بے بنیاد ہیں: انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا دہشت گردی اور تشدد کے خلاف مؤقف بڑا واضح اور تاریخی ہے ۔انھوں نے اپنے ملک کے خلاف ایران کے حالیہ الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
انور قرقاش نے اتوار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’’ ایران کے اندر یو اے ای کے خلاف اشتعال انگیزی بدقسمتی کی بات ہے اور اس میں اہواز میں حملے کے بعد اضافہ ہوا ہے۔یو اے ای کا دہشت گردی اور تشدد کے خلاف تاریخی مؤقف بڑا واضح ہے اور تہران کے الزامات بے بنیاد ہیں‘‘۔
قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا تھا اور ان سے ایک اماراتی لکھاری کی اہواز میں فوجی پریڈ پر حملے سے متعلق ٹویٹ پر بات چیت کی ہے۔گذشتہ روز فوجی پریڈ پر حملے میں انتیس افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ایران اس ٹویٹ کو اہواز شہر میں پریڈ پر حملے کی کھلی حمایت سمجھتا ہے۔البتہ ترجمان نے اس لکھاری کو غلط طور پر اماراتی حکومت کا ایک سیاسی مشیر سمجھا ہے۔ بہرام قاسمی نے کہا:’’ ناظم الامور کو خبردار کردیا گیا ہے کہ اس کے یو اے ای کی حکومت کے لیے مضمرات ہوں گے‘‘۔تاہم انھوں نے اس لکھاری کا نام افشا کیا ہے اور نہ اس کے متنازعہ تبصرے کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔
البتہ یو اے ای کے ایک ماہر تعلیم اور سیاسیات کے پروفیسر عبدالخالق عبداللہ نے اہواز میں حملے کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’ایک فوجی ہدف پر فوجی حملہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہے‘‘۔ان کے اس مؤقف کا اماراتی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔