.

فرانس: جنسی ہراسانی اور تشدد کے قانون کا نفاذ، ملزمان کو قید وجرمانے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے منظور کردہ قانون کا باقاعدہ نفاذ شروع کر دیا گیا ہے۔ گذشتہ روز فرانس کی ایک عدالت نے ایک مسافر بس میں خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ایک شخص کو 300 یورو جرمانہ اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس نئے قانون کے تحت خواتین پر پبلک مقامات پر ہاتھ اٹھانے، انہیں کسی بھی طریقے سے ہراساں کرنے، زبانی یا لفظی چھیڑ چھاڑ پر فوری جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

فرانسیسی قانون دان ’سامیہ مکتوف‘ نے ’العربیہ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنسی ہراسانی کی روک تھام کا قانون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق اس قانون کو بہت پہلے نافذ کردیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی آزادی کے خلاف ان پر جسمانی یا زبانی حملےناقابل قبول ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں، سڑکوں اور پبلک مقامات پر خواتین کو تحفظ ملنا چاہیے۔ یہ قانون فرانس میں خواتین کی فتح ہے۔

خیال رہے کہ فرانسیسی حکومت نے جنسی ہراسانی کا قانون اس واقعے کے بعد تیار کیا جس میں شمال مغربی پیرس میں ایک شخص نے ایک لڑکی کو چھیڑنے کی کوشش کی تھی، اس نے مزاحمت کی تو ہراسانی کے مرتکب نے اسے تھپڑ مار دیا تھا۔ اس واقعے نےفرانس میں جنسی ہراسانی کے مرتکب عناصر کے خلاف غم وغصے کی شدید لہر پیدا کی۔

جنسی ہراسانی کے قانون کے نفاذ پر سوشل میڈیا پر مثبت رد عمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے اس قانون کو درست اور حقوق نسواں کے حوالے سے ضروری قرار دیا ہے۔