.

تحریک النہضہ کو تیونس کی حکومت میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی ایک سرکردہ سیاسی جماعت "تحریک ندائے تیونس" نے مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ کو حکومت میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ کے مطابق "تحریک نداء تیونس" کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے لیے صلاح مشورہ کرے گی مگرتحریک النہضہ کو حکومت میں شامل کرنے کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا جائےگا۔

جماعت کا کہنا ہے کہ النہضہ تیونس کے اہم اداروں پر قبضہ کرنا اور رائے عامہ کے فیصلے کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

ندائے تیونس کے ایک رہ نما منجی الحرباوی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف الشاھد کی کابینہ میں تبدیلی کی جا رہی ہے مگر اس تبدیلی میں تحریک النہضہ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تحریک ندائے تیونس کا پارلیمانی بلاک تحریک النہضہ کو حکومت میں شامل کرنے کی حمایت نہیں کرے گا۔

تیونسی رکن پارلیمںٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اخوان المسلمون کی طرف جھکائو رکھتی ہے اور اس میں شامل وزراء اقتصادی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل میں ناکام رہے ہیں۔