فرانس : طارق رمضان کی رہائی کی ایک اور درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس میں مصری نژاد سوئس پروفیسر اور معروف اسکالر طارق رمضان کی رہائی کی درخواست چوتھی بار مسترد کر دی گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف مقدمے کے ایک قریبی ذریعے کی جانب سے جمعرات کے روز کیا گیا۔

طارق کے وکیل کا کہنا کہ انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی شہریت رکھنے والے طارق رمضان "آبرو رویزی" کے الزام میں رواں سال 2 فروری سے زیر حراست ہیں۔ سال 2017ء میں دو خواتین نے ان کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کی تھی۔

جج کا کہنا ہے کہ حراست میں رکھا جانا "ابھی تک ضروری ہے"۔

ایک برس تک انکار کے بعد طارق رمضان نے 22 اکتوبر کو اعتراف کیا تھا کہ ان کے دو خواتین کے ساتھ تعلقات تھے۔ تاہم طارق کے مطابق یہ تعلقات "دونوں خواتین کی مرضی" سے قائم ہوئے۔ اس سے قبل رواں برس جون میں 56 سالہ طارق نے صرف اتنا تسلیم کیا تھا کہ ان کے سابقہ خواتین دوستوں اور ایک تیسری درخواست گزار خاتون کے ساتھ عام تعلقات تھے۔

ستمبر 2018ء میں ایک درخواست گزار خاتون کے پرانے موبائل فون سے سیکڑوں ایس ایم ایس کا انکشاف ہوا جس کے بعد اکتوبر میں طارق رمضان جنسی تعلقات قائم کرنے کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ میڈیا نے مذکورہ خاتون کو "کرسٹل" کا نام دیا ہے۔

طارق کو سوئٹزرلینڈ میں بھی آبرو ریزی کے الزام کا سامنا ہے۔

طارق رمضان اسلام پسند تحریک "الاخوان المسلمين" کے بانی حسن البنا کے نواسے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں