سابق امریکی خاتون اول میشل اوباما کے اسقاط حمل کا قصہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سابق امریکی خاتون اول میشل اوباما نے کہا ہے کہ آج سے 20 سال قبل وہ اسقاط حمل کے تکلیف دہ عمل سے گذریں تھیں۔ یہ واقعہ آج بھی انہیں پریشان کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ میں نے محسوس کیا کہ اسقاط حمل کے بعد انہیں تنہائی اور نقصان کا شدید احساس تھا۔

"اے بی سی" نیٹ ورک کے پروگرام "صبح بخیر امریکا" کو دیے گئے انٹرویو میں میشل اوباما نے کہا کہ 20 سال پیشتر اسے بچی کی ٹیسٹ کے لیے ایک تجربہ گاہ میں مائیکرو بیالوجیکل کے عمل سے گزرنا پڑا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں سابق امریکی خاتون اول نے کہا کہ اسقاط حمل کے وقت میں ایسا محسوس کررہی تھی کہ میں بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئی ہوں۔ اس وقت آس پاس میں اسقاط حمل کے بارےمیں کم ہی لوگ جانتے تھے اور اس موضوع پر بات نہیں کی جاتی تھی۔

چون سالہ میشل اوباما نے کہا کہ وہ اپنے شوہر باراک اوباما کے ساتھ تھیں جب انہیں چلڈرن پائپ کے ذریعے ایک معائنے کے عمل سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ ساشا اور مالیا کی ماں بنیں۔ ساشا کی عمر اب 17 اور مالیا کی 20 سال ہے۔

میشل اوباما کی یاداشتوں پر مشتمل کتاب "بیکمینگ" آئندہ منگل کو منظر عام پرآئے گی۔ اس کتاب میں بھی انہوں‌ نے اپنی نجی زندگی کے اہم واقعات بیان کیے ہیں۔ انہوں‌ نے لکھا ہے کہ شیکاگو میں قیام کے دوران انہیں سیاہ فام ہونے کی بناء پر نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا مگر آخر کار نسل پرستی ہار گئی اور وہ جیت گئے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سیاہ فام ہونے پر نفرت سے دیکھنے والے اسے خاتون اول کہنے پر مجبور تھے۔ کتاب میں انہوں نے شادی کے بعد شوہر کے ساتھ ان کے سیاست میں آنے پر الجھنوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں