.

چین کا رویّہ تبدیل ہونے تک اُس پر تجارتی ٹیکس باقی رہیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ کی تجارتی روش تبدیل ہونے تک چین پر امریکی پابندیاں اور دباؤ باقی رہے گا۔

پینس نے APEC کے اجلاس سے قبل ہفتے کے روز کمپنیوں کے سربراہان کے ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے چین کی 250 ارب ڈالر کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی نافذ کی اور یہ عدد دو گنا بھی ہو سکتا ہے"۔ امریکی نائب صدر کے مطابق وہ "بہتری" واقع ہونے کی امید رکھتے ہیں تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ چین کے رویّے میں تبدیلی کے بغیر امریکا اپنا موقف ہر گز تبدیل نہیں کرے گا۔

دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی مقابلے بازی کے حوالے سے کہا ہے کہ مقابلے سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا خواہ وہ عسکری، سیاسی اور یا پھر تجارت کے میدان میں ہو۔ انہوں نے یہ بات APEC اجلاس سے قبل پورٹ مورسبے میں کمپنیوں کے سربراہان کے ایک فورم کے دوران کہی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ چین تجارت کے حوالے سے امریکا کے ساتھ سمجھوتے کا خواہش مند ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "چین سمجھوتے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اس نے ہمیں ان امور کی فہرست ارسال کی ہے جن پر وہ عمل کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک طویل فہرست ہے مگر ابھی تک ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے"۔

امریکا نے رواں برس جون کے اوائل سے چین سے آنے والی متعدد اشیاء پر ٹیکس اور کسٹم محصولات لاگو کر دیا تھا جن کو گزشتہ ماہ مزید بڑھا دیا گیا۔ ان اشیاء کی مالیت 260 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

امریکی اقدامات کے ردّ عمل میں چین نے بھی جواب دیتے ہوئے اکتوبر میں 60 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر ٹیکس اور کسٹم محصولات نافذ کر دیے۔