.

خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھرباور کرایا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں اور انہیں اس کیس میں ملوث کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے خاشقجی قتل کیس کے حوالے سے سعودی عرب کے موقف کی حمایت کا اظہار کیا۔

ارجنٹائن کے شہر پوینس آئرس میں "جی 20" اجلاس میں شرکت کے دوران "سی این این" ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات کا ایک ایک جملہ میں نے بہ غور پڑھا ہے۔ اس کے نتائج کا بھی مطالعہ کیا مگر مجھے اس میں کسی بھی جگہ خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان ٹھوس، ہم اور حتمی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ بدھ کو بھی امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمال خاشقجی کےقتل میں محمد بن سلمان کےملوث ہونے کی کوئی رپورٹ موجود نہیں۔

انہوں نے کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے پابندیوں کے لیے قانون سازی نہ کرے کیونکہ موجودہ وقت سعودی عرب کے خلاف قانون سازی کے لیے موزوں نہیں ہے۔

گذشتہ روز سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ایران کی جانب سے درمانے فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کی شدید مذمت کی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کی جانب سے درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیلسٹک میزائل سے متعلق امریکہ اور ایران کے درمیان تنائو کے معاملے پر ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک بیان میں پومپیو نےکہا ہے کہ ایران میزائل کے ''تجربے اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو کے راستے پر گامزن ہے''، اور اسلامی جمہوریہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ''ایسی سرگرمیوں سے باز رہے''۔