شام میں لڑائی عالمی جنگ سے بھی طول پکڑ گئی
شام کے لیے اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونےوالے مندوب اسٹیفن دی میستورا نے شام میں آئین سازکمیٹی کی تشکیل میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے الوداعی خطاب میں دی میستورا کا کہنا تھا کہ شام میں لڑائی دوسری عالمی جنگ سے بھی زیادہ طول پکڑ گئی۔
انہوں نے جہا کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکراتی ادوار میں جن امور پراتفاق رائےطے پایا تھا وہی شام ہے کے بحران کے حل کی اساس بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میںشام میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے چار سال چار ماہ کام کیا۔ یہ عرصہ پہلی عالمی جنگ سے بھی زیادہ ہے۔ شامی قوم کی مصیبت ساڑھے سات سال سے بھی تجاوز کرگئی ہیں جو کہ دوسری عالمی جنگ سے بھی زیادہ ہے۔
دی میستورا کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ کی وجہ سے وحشت، بربریت اورخون خرابہ ہے۔ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے میری،تمہاری اور باقی سب کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور ہم روایتی جنگ کی منطق ختم کرنے میں ناکام ہے مگرہم جنگ کے خاتمے کے قریب ضرور پہنچ گئے۔
-
ادلب میں 29 لاکھ افراد کی زندگی خطرے میں ہے: دی میستورا
تُرکی، ایران اور روس ادلب میں جنگ ٹالنے کے لیے اقدامات کریں
مشرق وسطی -
بشار الاسد کے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں رہا: دی میستورا
امن معاہدہ میں مزید تاخیر شام کی شکست وریخت کا پیش خیمہ ثابت ہو گی
مشرق وسطی -
شام کی لڑائی میں کسی فریق کی ہار جیت نہیں: دی میستورا
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی میستورا نے کہا ہے کہ میں شام میں ...
بين الاقوامى