.

سوڈان کے مختلف شہروں میں ’’جمعہ برائے تبدیلی‘‘ کے تحت احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارلحکومت خرطوم کی متعدد مساجد سے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں پر مبنی جلوس نکالے گئے۔ شرکاء جلوس ملک میں ابتر معاشی صورتحال اور مہنگائی کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ درایں اثناء سوڈانی سیکیورٹی فورس نے ’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار کو تفتیش کے لئے طلب کر لیا۔

مظاہروں میں شامل سرگرم کارکنوں نے بتایا کہ خرطوم کی ’’ارکویت‘‘ مسجد سے احتجاجی جلوس نکالا گیا جبکہ الحلفایا کے علاقے سے نکالے گئے احتجاجی جلوس میں شامل مظاہرین ’’آزادی اور تبدیلی‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔

دوسری جانب خرطوم میں حکام نے اپوزیشن کو طاقت، دھونس اور لالچ جیسے روایتی حربے استعمال کر کے رام کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ حزب اختلاف کے مختلف حلقوں سے ملاقاتوں میں حکام نے یقین دلایا کہ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ نیز معیشت کی خراب صورتحال پر قابو پانے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے اشک آور گیس استعمال کی۔ عمرالبشیر کی قیادت میں ملک پر حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعت کے بور سودان میں واقع دفتر میں مظاہرین سے ایک احتجاجی یاداشت وصول کرنے کی کوشش کی گئی۔

بور سودان میں احتجاج پر آمادہ وتیار احتجاج کرنے والے سیاسی مظاہرین صدر عمرالبشیر کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نئے انتخابات کے لئے تاریخ کا اعلان اور عبوری حکومت فوری طور پر تشکیل دی جائے۔

دوسری جانب صدر عمر البشیر کا کہنا ہے کہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر قابو پانے کے لئے کم سے کم طاقت استعمال کی جائے۔

صدارتی دارلضیافہ میں علماء کرام اور مشائح عزام سے ملاقات میں سوڈانی صدر کا کہنا تھا کہ امن وامان برقرار رکھنے کے لئے بعض اوقات طاقت کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔

قوم سے اپنے خطاب میں عمر البشیر کا کہنا تھا کہ حکومت مظاہروں سے نپٹنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی تلاش میں ہے۔ اس احتجاج میں اب سیاسی جماعتیں شامل ہو کر صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ پیشہ وارانہ تنظیموں کے اتحاد نے اگلے اتوار تیسرے احتجاجی مارچ کی کال دے رکھی ہے۔