سوڈان : عوامی احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ڈاکٹر اور بچہ ہلاک
سوڈان میں ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مظاہرے کو روکنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پرتشدد طریقہ اپنایا جس کے نتیجے میں ڈاکٹر بابكر عبدالحميد اور ایک بچہ محمد عبيد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد خطرناک حد تک زخمی ہو گئی۔
جمعرات کے روز سوڈان کے چھ شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پولیس ترجمان نے درخواست کے باوجود ابھی تک واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سوڈان کے متعدد شہروں میں جاری مظاہروں کے دوران اب تک 42 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر اپوزیشن کی جماعت "حزب الامۃ" نے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں "مظاہرین کے خلاف مرتکب قتل کے جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات" کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل بین الاقوامی تنظیموں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے جب کہ یہ تنظیمیں اپنی رپورٹوں میں "نہتے شہریوں کے خلاف بھیانک جرائم" کی تصدیق کر چکی ہیں۔
سوڈانی پولیس نے جمعرات کے روز دارالحکومت خرطوم میں حکومت مخالف مظاہرین پر آنسو گیس چھوڑی ،،، یہ مظاہرین صدارتی محل کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کارکنان نے "العربیہ" کو بتایا کہ مظاہرین کی وسیع پیمانے پر گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔