فلپائن کے جنوب میں مسلمانوں کے لیے خودمختار علاقے کے قیام کی تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلپائن میں ہونے والے ایک ریفرینڈم میں ملک میں مسلمانوں کے خود مختار علاقے کے قیام کی تائید کر دی گئی ہے۔

نتائج کے مطابق فلپائن کے جنوب میں اکثریت نے علاقے میں خود مختاری پر موافقت کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو امید ہے کہ اس طرح جنوبی علاقے میں امن کا قیام عمل میں آ جائے گا اور کئی دہائیوں سے جاری معرکہ آرائی اختتام کو پہنچے گی۔ اس لڑائی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ریفرینڈم کے نتائج اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ فلپائن میں سب سے بڑی باغی جماعت مورو اسلامک فرنٹ فار لبریشن ہتھیار ڈال کر ایک سیاسی جماعت کی صورت اختیار کر لے گی۔

گزشتہ صدی میں 1970 کی دہائی میں شروع ہونے والی باغی تحریک کے بعد سے اب تک تقریبا 1.5 لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس تحریک کا مقصد مسلم اکثریتی جزیرے مینداناؤ میں خود مختار نظام کا قیام یا جزیرے کی آزادی ہے۔

مورو اسلامک فرنٹ فار لبریشن کے سربراہ مراد ابراہیم کا کہنا ہے کہ "ہم عوام کی جانب سے مکمل تائید پر نہایت مسرور ہیں۔ یہ ایک واضح جیت ہے جس کی کوئی مثال نہیں"۔

مذکورہ ریفرینڈم میں تقریبا 17 لاکھ شرکاء نے ،،، منیلا حکومت اور مورو فرنٹ کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں قائم کیے گئے خود مختار علاقے کے بجائے "بانجسامورو خود مختار علاقے" کے قیام کی تائید کی ہے۔ انتخابی کمیشن کی جانب سے جاری سرکاری نتائج کے مطابق 2.55 لاکھ کے قریب افراد نے اس کی مخالفت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں