.

ترکی بیرون ملک ایردوآن کے حریفوں کی جاسوسی کیسے کرتا رہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ترکی میں لیک ہونے والی خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ترکی کی حکومت بیرون ملک سفارت خانوں کے ذریعے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مخالفین کی جاسوسی کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔

’’الحدث‘‘ چینل کے کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی پولیس انٹیلی جنس ڈاریکٹوریٹ نے چھ جنوری کو اعلیٰ عدلیہ کو ایک دستاویز ارسال کی۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے 78 ملکوں‌ میں قائم ترک سفارت خانوں کی مدد سے اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن اور ان کے حامیوں کی جاسوسی کی جاتی رہی ہے۔

مگر یہ دستاویز صدر ایردوآن پر آگ بن کر گری کیونکہ عالمی اداروں نے ترک صدر کی سیکیورٹی پر مامور پولیس پر بین الاقوامی سفارتی مشنز کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے اور یورپی ممالک میں بھی ایردوآن کے حریفوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

'نوردیک مانیٹر' نامی ویب سائٹ کے مطابق ترکی کی حکومت نے کئی ملکوں‌ میں سفارتی عملے میں پولیس افسران کو تعینات کرایا مگر فہرستوں میں ان کی شناخت پولیس اہلکاروں کے طور پر نہیں کی گئی۔ سفارتی عملے میں متعین کردہ پولیس اہلکاروں نے امریکا، جرمنی، فرانس، سوئٹرز لینڈ، مراکش، لیبیا، مصر، سوڈان اور صومالیہ جیسے ممالک میں ترک صدر کے مخالفین کی جاسوسی کی۔

خیال رہے کہ ترکی کے قانون کے تحت پولیس کے پاس بیرون ملک کسی قسم کی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ پولیس کے پاس بیرونی سفارت خانوں اور سفارتی عملے کی رہائش گاہوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہوتی ہے مگر کسی دوسرے ملک یا اپنے ملک میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں کے ذریعے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔