.

’’امریکا نے ایران کی نگرانی کے لیے عراق میں فوج رکھنے کا مطالبہ نہیں کیا‘‘

ایران پر کڑی نظر رکھنے کے لیے ہماری فوج عراق میں‌ موجود رہے گی: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں امریکی فوج رکھنے سے متعلق واشنگٹن اور بغداد سے متضاد دعوی سامنے آ رہے ہیں۔ عراقی صدر برھم صالح کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی کی نگرانی کے لئے عراق میں اپنی فوج رکھنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ’’عراق میں امریکی فوج دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں موجود ہے اور اس کا مینڈیٹ دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہماری حکومت عراق میں امریکی فوج کی تعداد اور کاموں کے بارے میں واشنگٹن کی وضاحت کا انتظار کرے گی۔‘‘

اس سے قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا ’’کہ وہ عراق سے امریکی فوج واپس نہیں بلائیں گے کیونکہ عراق میں ایرانی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے امریکی فوج کی وہاں موجودگی ضروری ہے۔‘‘

امریکی ٹی وی چینل 'سی بی ایس' کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'میں عراق میں امریکی فوجی اڈہ ختم کرکے امریکی فوج کو واپس نہیں لانا چاہتا'۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوج کو نہ نکالنے کے اسباب میں ایک سبب ایران بھی ہے۔ ایران ہمارے لیے ایک حقیقی مسئلہ ہے اور ہمیں عراق میں بیٹھ کر ایران کی نگرانی کرنی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے عراق میں اپنے فوجی اڈے کے قیام پر بھاری رقم خرچ کی ہے۔ ہمیں اس اڈے کو برقرار رکھنا ہے۔

جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ عراق میں امریکی فوج کی موجودگی ایران پرضرب لگانے کے لیے ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران کی مانیٹرنگ کررہے ہیں اور عراق میں رہ کر ایران پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں صرف ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ہم نے عراق میں فوجی اڈے کے قیام پر بہت پیسہ خرچ کیا ہے۔ انتشار کے شکار مشرق وسطیٰ میں ایرانی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے عراق میں فوجی اڈے کی موجودگی ضروری ہے۔ امریکی فوج کی واپسی سے وہاں پر موجود رہنا زیادہ اہم ہے۔

وینز ویلا کے میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے امریکی فوج بھیجنے کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا کے عبوری صدر کی حمایت میں فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں موجود امریکی فوج کی اچانک واپسی کا اعلان کیا تھا جس پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے اور عراق میں موجود امریکی فوج کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں بھی بحث جاری تھی۔ گذشتہ روز اپنے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق سے فوج نہ نکالنے کا اعلان کرکے تمام خدشات دور کر دیئے۔