.

شاہ سلمان اور روسی صدر پوتین کا توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران میں میں عالمی توانائی مارکیٹ میں ا ستحکام کے لیے روابط جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں لیڈروں نے منگل کے روز ٹیلی فون پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔انھوں نے روس اور سعودی عرب کے درمیان توانائی سمیت مختلف شعبوں دوطرفہ تعاون کو سراہا ہے اور ا س کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ تجارت ، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے اہم اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔

انھوں نے سعودی عرب اور روس کے درمیان کثیر الجہت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے اور آیندہ مختلف سطحوں پر روابط کے شیڈول کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

واضح رہے کہ روس ، تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک اور تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک نے مجموعی طور پر جنوری سے تیل کی یومیہ پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی کمی سے اتفاق کیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لانا تھا۔

اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان وزارتی سطح پر آیندہ اجلاس اپریل کے وسط میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں متوقع ہے اور وہ تیل کی پیداوار میں اس کٹوتی کو برقرار رکھنے یا اس میں کسی کمی وبیشی کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔