.

سعودی عرب میں چینی زبان کی تدریس پر چینی کمیونٹی کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے الشرقیہ میں چینی کمیونٹی نے مملکت کے تعلیمی نصاب میں چینی زبان کی تدریس کے فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ اس سلسلے میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے کئی چینی خواتین سے ملاقات کی جنہوں نے اس فیصلے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے چین کے دورے کے دوران یہ فیصلہ سامنے آیا تھا کہ مملکت کے اسکولوں میں چینی زبان کی تدریس عمل میں لائی جائے گی۔ چینی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ چین اور سعودی عرب کے درمیان تعاون میں اضافے کے نتیجے میں آئندہ برسوں میں چینی تاجروں اور کاروباری شخصیات سے گفتگو میں مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت ہو گی۔

سعودی عرب کے مشرقی شہر راس تنورہ میں چند برسوں سے مقیم چینی خاتون ڈیسی زاہو کے شوہر ایک آئل کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ ڈیسی کے مطابق ان کی ننھی بیٹی شاشا اسکول سے آنے کے بعد روزانہ دو گھنٹے چینی زبان کے الفاظ یاد کرنے میں صرف کرتی ہے۔ ان الفاظ کی مجموعی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے تاہم چینی ڈکشنریوں میں وہ آٹھ ہزار کے قریب الفاظ ہی ملتے ہیں جو روزہ مرہ کی زندگی میں استعمال ہوتے ہیں۔

ڈیسی نے مزید بتایا کہ ان کی بیٹی کو اسکول کے ہوم ورک کے بعد روزانہ چینی زبان کے دس سے بیس الفاظ یاد کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے فیصلے کے بعد سعودی معاشرے کے تمام افراد کے ساتھ ہم اپنی زبان میں بات کر سکیں گے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ چینی باشندوں کو غیر ملکی زبانیں سیکھنے میں بڑا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ ایک چینی خاتون یاشن کے ساتھ بھی ہوا جو عربی زبان سیکھنے کی دشواری سے بھونچکا رہ گئیں۔ یاشن کے نزدیک عربی زبان چینی زبان سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حروف تہجی نے عربی زبان کی پیچیدگی میں اضافہ کر دیا جب کہ اس کے برعکس چینی زبان کے مفردات آسان اور سادہ ہیں۔

یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ چینی زبان بہت سی اقوام کی زبانوں کے حروف کے مخارج اور ادائیگی سے مختلف ہے۔ تاہم اس کے باوجود چینی زبان سیکھنے کے اہتمام پر کوئی اثر نہیں پڑا اور توقع ہے کہ یہ زبان سعودی عرب کے 24 ہزار سے زیادہ اسکولوں تک پہنچ جائے گی۔ چینی زبان مختلف صوتی لہجوں پر مشتمل ہے جن کو الفاظ بنانے کے واسطے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ چینی باشندے بہت سے لہجوں کو استعمال کرتے ہیں جو تلفظ میں دیگر زبان کے الفاظ کے قریب ترین شمار ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ دوسری زبانوں کے نام بولنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

چینی خواتین نے باور کرایا کہ جس طرح دیگر زبانیں بولنے والوں کو چینی زبان سیکھنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اسی طرح چینی باشندوں کے لاطینی یا عربی زبانیں سیکھنے کی راہ میں بھی رکاوٹیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔