نیوزی لینڈ مسجد حملہ: عراقی باپ نے بیٹوں کو بچانے کے لیے زندگی داؤ پر لگا دی
اماراتی ذرائع ابلاغ میں جمعے کے روز عراقی باشندے ادیب سامی کا قصہ زیر گردش رہا جو نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملوں میں اپنے دو بیٹوں کو بچاتے ہوئے زخمی ہو گیا۔ جمعے کے روز ہونے والے حملوں میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
امارات کے انگریزی اخبار Gulf News کے مطابق 52 سالہ سامی نیوزی لینڈ کا عراقی نژاد شہری ہے۔ وہ انجینئرنگ کنسلٹینسی کے شعبے میں متحدہ عرب امارات میں کام کرتا ہے۔ جمعے کے روز کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں مسلح دہشت گرد نے داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی تو اس وقت سامی نے اپنے دو بیٹوں عبدالله (29 برس) اور علی (23 برس) پر جھک کر ان کو ڈھانپ لیا۔
اخبار کے مطابق ادیب سامی کی بیٹی ہبہ کا کہنا ہے کہ "میرے والد حقیقی ہیرو ہیں۔ میرے بھائیوں کو بچاتے ہوئے انہیں کمر میں ریڑھ کی ہڈی کے نزدیک گولی لگی مگر میرے والد نے اپنے بیٹوں کو آنچ نہیں آنے دی"۔
ہبہ نے مزید بتایا کہ وہ نیوزی لینڈ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس بات پر اطمینان محسوس کر رہی ہیں کہ ان کے والد کو ریکوری رُوم سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
جمعے کے روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں کو آتشی ہتھیاروں سے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی میں 50 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
-
نیوزی لینڈ میں نمازیوں کا قاتل دہشت گرد دو بار ترکی گیا: ترک عہدیدار
ترکی کے ایک سینیر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ میں دو مساجد ...
بين الاقوامى -
دفتر خارجہ نیوزی لینڈ میں سعودی شہریوں سے رابطے میں ہے: ڈاکٹر ابراہیم العساف
سعودی عرب کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ابراہیم بن عبدالعزیز العساف نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ ...
بين الاقوامى -
کرائسٹ چرچ دہشت گردی کا مرتکب ’قتل عام‘ کے جرم میں کٹہرے میں
ملزم 5 اپریل تک پولیس کے حوالے، ضمانت پر رہا نہ کرنے کا فیصلہ
بين الاقوامى