احتجاج کے باعث فرانسیسی صدارتی محل کے راستے سیل، محراب آزادی پر پولیس تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں آج بروز اتوار زرد صدری تحریک کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے صدارتی محل شانزلیزا کے داخلی راستے سیل کر دئے ہیں۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں اور پیرس کی مشہور زمانہ یادگار'محراب آزادی' پر بھی پولیس کے مسلح دستے تعینات کیے گئے ہیں

پیرس میں 'العربیہ' کے نامہ نگار کے مطابق زرد صدری تحریک کی طرف سے اتوار کو مظاہروں کی کال کے بعد دارالحکومت پیرس بالخصوص صدارتی محل اور دارالحکومت کے دائیں اور بائیں اطراف اور اہم مقامات پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

ہفتے کے روز فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے پیرس میں پولیس ہیڈ کواٹر کا دورہ کیا۔ وزیرداخلہ کریسٹوف کاسٹانیز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے زرد صدری تحریک کے مظاہرین کی طرف سے احتجاج کی کال کے بعد دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں اور مظاہروں کی آڑ میں توڑپھوڑ اور افراتفری پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔

پولیس کے ساتھ ساتھ فوج نے بھی دارالحکومت میں اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ 19 ہفتوں سے فرانس میں صدر عمانوایل ماکروں کے خلاف احتجاجی تحریک جاری ہے۔ یہ تحریک میڈیا میں 'زرد صدری' تحریک کے نام سے مشہور ہوئی ہے۔ اس میں حصہ لینے والےافراد زرد رنگ کی جیکٹیں پہن کر آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں