.

الحدیدہ: بحیرہ احمر کی فلور ملز ایک بار پھر حوثیوں کی گولہ باری کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی شہر الحدیدہ میں حوثی ملیشیا نے ایک بار پھر بحیرہ احمر کی فلور ملوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ باغیوں ملیشیا نے دسمبر میں اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مسلح جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک عسکری ذریعے کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغا جانے والا ایک توپ کا گولہ غلے کے گوداموں کے نزدیک گرا۔ ان گوداموں میں عالمی ادارہ خوراک کے زیر انتظام گندم کی ایک بڑی مقدار موجود ہے۔

حوثی ملیشیا کئی مرتبہ بحیرہ احمر کی فلور ملوں کو توپوں کی گولہ باری کا نشانہ بنا چکی ہے۔ اس دوران ایک گودام میں آگ بھڑکنے کے سبب گندم کی بڑی مقدار برباد ہو گئی۔

عالمی ادارہ خوراک اس سے قبل انکشاف کر چکا ہے کہ حوثی ملیشیا نے انسانی امداد پر قبضہ کر لیا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے معاون برائے انسانی امور مارک لوکوک نے بحیرہ احمر کی فلور ملوں میں گندم کے ذخیرے کی بربادی اور خشک سالی میں اضافے کا ذمے دار حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا ہے۔

ایک اخباری بیان میں انہوں نے تصدیق کی کہ حوثی باغیوں نے چار ماہ سے بین الاقوامی تنظیم کے اہل کاروں کو گندم کے گوداموں تک پہنچنے سے روکا ہوا ہے۔ ان گوداموں میں موجود گندم ایک ماہ تک 37 لاکھ افراد کے لیے کافی ہے۔ لوکوک کے مطابق ان گوداموں میں پڑی گندم کو بربادی کا سامنا ہے جب کہ یمن میں تقریبا ایک کروڑ افراد قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔