"اوپیک" کے رکن ممالک ایرانی تیل کی کمی پوری کرنے کا متبادل ہو سکتے ہیں: ٹرمپ

دو مئی سے ایران سےتیل کی خریداری پردی گئی چھوٹ ختم کر دی جائےگی: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور تیل پیداکرنےوالے ممالک کی تنظیم'اوپیک' کے دوسرے رکن ممالک ایرانی تیل کی کمی پوری کرنے پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اوپیک کےرکن ممالک عالمی منڈی میں ایرانی تیل کا "مکمل متبادل" ہوسکتےہیں۔

امریکی حکومت کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہےکہ ایران پرعاید کی جانے والی اقتصادی پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں‌کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہےکہ جن ممالک کو عارضی طورپرایران سے تیل خرید کرنے کی اجازت دی گئی تھی انہیں 2 مئی کے 2019ء کے بعد مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب اور اوپیک میں‌ موجود دوسرے ممالک ایرانی تیل پر پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی کمی پوری کرسکتے ہیں۔

سوموار کے روز واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ ایران سے بعض ممالک کو تیل خرید کرنےکی دی گئی مہلت میں مزیدتوسیع نہیں کرے گا۔ امریکی حکام کا کہناہے کہ ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندیاں ایران پر عاید کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا حصہ ہیں۔ ایرانی تیل پر پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایرانی تیل کی مرکزی آمدن ختم ہوجائے گی۔

ادھر عالمی منڈی میں خاتم تیل کی قیمت میں تین اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد تیل کی قیمت 74.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ گذشتہ برس نومبرکے بعد تیل کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ اس سے قبل تیل کی قیمت 73.63 فی بیرل تک پہنچی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں