.

’’مذاکرات کے لیے تیار ہیں،مگر آج کے بعد گڑ بڑ نہیں ہوگی‘‘:سوڈان کی فوجی کونسل کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے فوجی حکمرانوں نے کہا ہے کہ وہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے حزبِ اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے مل بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن منگل کے بعد کوئی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے۔

عبوری فوجی کونسل نے یہ انتباہ سوموار کو ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور مظاہرین کے ٹرینیں اور پُل بند کرنے کی کوششوں کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔سوڈان کی حزبِ اختلاف اور مظاہرین کے گروپ 11 اپریل کو صدر عمر حسن البشیر کی برطرفی کے بعد سے ملک میں سول حکمرانی کے لیے تحریک چلا رہے ہیں اور وہ عبوری فوجی کونسل سے جلد سے جلد اقتدار ایک شہری حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

عبوری فوجی کونسل کے نائب سربراہ محمد حمدان داغلو المعروف حمیدتی نے منگل کے روز کہا ہے کہ ’’ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن آج کے بعد کوئی طوائف الملوکی نہیں ہونی چاہیے ۔ہم نے انھیں کہہ دیا ہے۔ دھرنا جاری رکھیے لیکن ٹرین کا پہیّا ایندھن مہیا کرنے کے لیے نہیں رکنا چاہیے‘‘۔

عبوری فوجی کونسل اور احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والی سوڈانی پیشہ ور تنظیم کے درمیان اتوار کو مشترکہ سول فوجی عبوری کونسل کے قیام کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا جس کے بعد اس تنظیم نے سوموار سے ملک میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی اپیل کردی تھی۔

کونسل کی قیادت نے آج ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ فوج دارالحکومت خرطوم میں وزارتِ دفاع کے باہر 6 اپریل سے دھرنا دینے والے مظاہرین کو منتشر نہیں کرے گی‘‘۔اس دھرنے میں شریک مظاہرین پہلے مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔ان کی معزولی کے بعد انھوں نے سول حکومت کے قیام کا مطالبہ شروع کردیا تھا۔

عبوری فوجی کونسل کے ایک رکن لیفٹیننٹ جنرل صالح عبدالخالق نے کہا کہ ’’ ہمیں دھرنا منتشر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن یہ بات سوڈانی عوام کے مفاد میں ہے کہ بند سڑکیں کھولی جائیں ‘‘۔انھوں نے معزول حکومت سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ’’ ہم انقلاب کا حصہ ہیں اور ہمارا سابق نظام سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ کچھ لوگ ہمیں ایسا دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

اس پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ عبوری کونسل کے تین ارکان کے استعفے منظور کر لیے گئے ہیں۔ سوڈانی پیشہ ور تنظیم نے ان ارکان کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوّث ہونے کے الزام میں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔

ان مستعفی ہونے والے ارکان میں عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عمر زین العابدین بھی شامل ہیں۔ دوسرے دو ارکان کے نام لیفٹیننٹ جنرل جلال الدین آل الشیخ اور لیفٹیننٹ جنرل الطیب بابکر علی فضیل ہیں۔