سعودی آرامکو کی تنصیبات پرحملے حوثیوں کے ایرانی آلہ کار ہونے کا مظہر:شہزادہ خالد بن سلمان
یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ ایرانی آلہ کار ہیں اور وہ ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔
یہ بات سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہی ہے اور یہ آرامکو کی تنصیبات پر حوثیوں کے ڈرون حملوں کے بعد ان کا پہلا ردعمل ہے۔انھوں نے کہا:’’ آرامکو کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حوثی ملیشیا ایرانی رجیم کی محض آلہ کار ہے اور اس کو خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کے نفاذ کے لیے بروئے کار لایا جارہا ہے اور یہ حوثیوں کے جھوٹے دعوے کے برعکس یمن میں عوام کا تحفظ نہیں کررہی ہے‘‘۔
انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ سعودی تنصیبات پر حملوں کا حکم تہران میں رجیم نے دیا تھا اورحوثیوں نے اس حکم کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ ان حملوں کا مقصد (یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے )سیاسی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔
The attack by the Iranian-backed Houthi militias against the two Aramco pumping stations proves that these militias are merely a tool that Iran's regime uses to implement its expansionist agenda in the region, and not to protect the people of Yemen as the Houthis falsely claim.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) May 16, 2019
یمن کے حوثی باغیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کی مشرق سے مغرب کی جانب جانے والی تیل کی مرکزی پائپ لائن پر دو ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران امریکا کے ساتھ فوجی تنازع کی صورت میں تیل کی عالمی رسد کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔
پاکستان اور عرب ممالک نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات پر ان ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’’ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کے استحکام اور سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں اس کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے‘‘۔ مصر نے کہا ہے کہ اس نے درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ روابط کو اعلیٰ سطح تک بڑھا دیا ہے۔