ایران اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی خفیہ ڈیل آخری مرحلے میں داخل: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی خرید وفروخت کی ایک خفیہ سودے پر کام ہو رہا ہے۔ یہ سودا اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی اور روسی حکام نے حالیہ عرصے کے دوران اسلحہ کی ڈیل کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روس اور ایران کے درمیان اسلحہ کی خفیہ ڈیل کے حوالے سے خبر کا انکشاف روسی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق روسی اسلحہ ساز کمپنی 'روس اپارون' ایرانی رجیم کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کے معاہدے کے آخری مرحلے میں‌ ہے۔ اس ڈیل میں روسی کمپنی ایران کو دفاعی اور پیشگی حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار فراہم کرے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے ذرائع کے مطابق ایران کو پیشگی حملے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار فراہم کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی قراداد 2231 میں ایران کو اس نوعیت کے ہتھیاروں کی فروخت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ جب تک سلامتی کونسل اس کی اجازت نہیں دے گی کوئی ملک ایسے مہلک ہتھیار تہران کو فروخت نہیں کرسکتا۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ دفاعی ڈیل کے حوالے سے ماسکو اور تہران کے درمیان رابطے مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھے گئے تاکہ ایران، روس سے ایسے ہتھیار خرید سکے جنہیں وہ عالمی قانون کے تحت حاصل کرنے کا مجاز نہیں۔

یہ ڈیل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ اس ڈیل میں روس کے بڑے اور عالمی سطح کے ہتھیار شامل ہیں۔ ان میں فضائی دفاعی نظام 'ایس 400'، سوخوئی جنگی طیارے، فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سیٹلائٹس اور آبدوزیں‌ بھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسلحہ کی مذکورہ ڈیل کے حوالے سے بات چیت دونوں‌ ملکوں میں اعلیٰ سطحی حکام کے درمیان ہوئی۔ ایران کی طرف سے اسلحہ کے حصول کے لیے مذاکرات وزیر دفاع امیر حاتمی نے کیے۔ اس سودے کی مالیت ساڑھے چار ارب ڈالر ہے۔ ایران یہ رقم نقد کے بجائے خام تیل اور دیگر سامان کی شکل میں ادا کرے گا۔ ایران اور روسی اسلحہ ساز کمپنی 'روس اپارون ایکسپورٹ' کے درمیان مذاکرات رواں سال فروری سے جاری ہیں۔

ادھر ماسکو میں 'العربیہ' چینل کے نامہ نگار نے بتایا کہ روسی حکام کی طرف سے ایران کے ساتھ اسلحہ کی کسی میگا ڈیل کے حوالے سے خبروں کی تردید کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ مذکورہ ڈیل میں سوخوئی 24 اور مگ 29 طیاروں کی مرمت کی ڈیل کی جا سکتی ہے۔

روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے تین سال قبل ماسکو سے سوخوئی طیارے، جنگی ہیلی کاپٹر، بحری جہازوں کو تباہ کرنے والا دفاعی نظام اور سمندر میں استعمال ہونے والے میزائل فروخت کرنے کی درخواست کی تھی۔ کرملین نے اس درخواست پرغور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے اسلحہ کے حصول کی درخواست دی گئی ہوگی مگر اس پرعمل درآمد میں کافی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔


العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری ایران کے لیے آسان نہیں۔ چند ہفتے قبل ایران نے اس نظام کی خریداری کے لیے ماسکو کو درخواست دی تھی مگر روس نے ایرانی درخواست مسترد کردی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت روس ایران کو 'ایس 400' طرز کا دفاعی اسلحہ نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے حال ہی میں روس اور اسرائیل کے درمیان بھی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل کے باب 7 کے تحت منظور ہونے والی قرارداد 2231 میں ایران جیسے ممالک کو ایس 400 دفاعی نظام کی فروخت کو سلامتی کونسل کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ قرارداد ایران کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دفاعی یا پیشگی حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں