.

پیلوسی پر تنقید کرنے والی ڈیموکریٹک رکن کانگرس بے ادب ہیں: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے بیچ حالیہ تناؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نسل پرست نہیں ہیں اور نئی قانون ساز رکن الیگزینڈریا الیکسیو کورٹیز اپنی اسپیکر کے حوالے سے "انتہائی بے ادب" ثابت ہوئیں ہیں۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز صحافیوں کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ نینسی کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ اس معاملے کو ایسے ہی جانے دیں"۔

یہ تبصرہ امریکی رکن کانگریس کورٹیز کی جانب سے اعلانیہ شکایت کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں کورٹیز نے اپنے اور تین ڈیموکریٹس خواتین کے ساتھ نینسی پلوسی کے رویے پر تنقید کی تھی۔

پلوسی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جن چار خواتین ارکان نے مہاجر بچوں کے حوالے سے پلوسی کے منصوبے کی مخالفت کی تھی، ان کی تائید کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ چار ہیں اور ان کے حق میں چار ہی ووٹ آئے۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس الیگزینڈریا کورٹیز نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو بتایا کہ ایوان میں نئی منتخب خواتین ارکان کے حوالے سے پلوسی مکمل طور پر احترام سے عاری رہیں۔

ادھر ڈیموکریٹک رکن کانگریس ولیم کلے نے اپنی ساتھی رکن الیگزینڈریا کورٹیز کو نینسی پلوسی کے متعلق بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس بیان میں کورٹیز نے ایوان نمائندگان کی اسپیکر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ کورٹیز اور ان کی کئی ساتھیوں کے حوالے سے "نسلی تفریق" اپنا رہی ہیں۔ ولیم نے یہ بات جمعرات کی شب فوکس نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ولیم کے مطابق کورٹیز کی حجت کمزور ہے اور وہ امریکا کی تاریخ اور بطور ایک جمہوری معاشرے کے ہماری تاریخ سے نا آشنا لگ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی نا مناسب بات ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ اسپیکر نینسی پلوسی کے حوالے سے یہ بات غیر منصفانہ ہے۔

ولیم کا کہنا تھا کہ الیگزینڈریا کورٹیز اور ان کی تین ساتھی ارکان الہان عمر، رشيدہ طليب اور ايانا پریسلے۔۔۔ ان کو کچھ وقت درکار ہے جس کے بعد وہ مؤثر قانون ساز کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکیں گی۔

کورٹیز نے اس سے پہلے اعتدال پسند ڈیموکریٹس کا موازنہ نسل پرست ڈیموکریٹس کے ساتھ کیا تھا۔ اس پر پلوسی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض ارکان کی درخواست پر ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو وارننگ دی تھی کہ وہ ٹویٹر پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔