.

الجزائری شہریوں کا اصلاحات کے بغیر مجوزہ صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں ہزاروں شہریوں نے ملک میں مجوزہ صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔وہ ان انتخابات کے انعقاد سے قبل اہم حکومتی عہدے داروں سے مستعفی ہونے اور اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

الجزائری شہری فروری سے ملک میں رائج نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کے احتجاج کے نتیجے ہی میں سابق مطلق العنان صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ جمعہ کو دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد نے مسلسل تیسویں ہفتے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

وہ معزول صدر بوتفلیقہ کے دورِ اقتدار سے اہم عہدوں پر فائز حکومتی شخصیات کی موجودگی میں ملک میں نئے صدارتی انتخابات کی مخالفت کررہے ہیں۔ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ سیاسی اداروں کی تنظیم نو کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر صدارتی انتخابات ہوتے ہیں تو پھر صورت حال جوں کی توں رہے گی اور کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ کی معزولی کے بعد سے الجزائری فوج نے ملک کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔وہ ملک میں جلد سے جلد انتخابات کے انعقاد پر زور دے رہی ہے۔آرمی چیف جنرل قائد صلاح بالاصرار یہ کہہ چکے ہیں کہ اس سال کے اختتام سے قبل انتخابات ہوجانے چاہییں۔

گذشتہ ہفتے قائد صلاح نے پندرہ ستمبر کو الیکٹورل کالج کا اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ آیندہ نوّے روز کے اندر انتخابات منعقد کرائے جاسکیں۔

الجزائری پارلیمان نے اسی ہفتے دو بل منظور کیے ہیں۔ان کے تحت دسمبر میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔قبل ازیں الجزائر میں چار جولائی کو صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ان میں حصہ لینے کے لیے کوئی مناسب امیدوار سامنے نہیں آیا تھا۔

اس کے بعد انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے اورملک آئینی بحران سے دوچار ہوگیا تھا کیونکہ قائم مقام سربراہ ریاست عبدالقادر بن صلاح کی نوّے روزہ مدت جولائی کے اوائل میں ختم ہوگئی تھی۔