.

سعودی معیشت مضبوط ہے، حملوں سے متاثر نہیں ہوگی : وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہے اور یہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں ایسے واقعات سے متاثر نہیں ہوگی۔

یہ بات سعودی وزیرخزانہ محمد الجدعان نے العربیہ سے خصوصی گفتگو میں کہی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ’’سعودی عرب کے اقتصادی اصلاحات کے ویژن 2030ء پر عمل درآمد جاری ہے اور اس حملے سے ہماری آمدن پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

محمد الجدعان نے سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر گذشتہ ہفتے کے روز ڈرون حملوں کے حوالے سے کہاکہ’’ جو کچھ ہوا ہے،یہ اس طرح کے تخریبی حملوں میں سعودی عرب کی مضبوطی کا حقیقی امتحان ہے‘‘۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب میں آیندہ مالی سال 2020ء میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس ( وی اے ٹی) میں اضافہ کیا جائے گا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا:’’ میں تو اس کی توقع نہیں کررہا ہوں۔‘‘

اسی ماہ عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ وہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو پانچ فی صد سے دس فی صد تک بڑھانے پر غور کرے۔اس رپورٹ میں سعودی عرب کو غیر تیل آمدن میں اضافے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی سمیت اور بھی متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی غیر تیل معیشت مجموعی قومی پیداوار یا قومی معیشت کا تین فی صد ہوجائے گی۔اس وقت اس معیشت کا حصہ 2.9
فی صد ہے۔

انھوں نے العربیہ کو مزید بتایا ہے کہ 2019ء کی پہلی ششماہی میں سعودی عرب کا بجٹ خسارہ 86 فی صد تک کم ہوگیا ہے اور سال بہ سال کی بنیاد پراس کا حجم پانچ ارب ستر کروڑ ریال ہے۔تیل کے علاوہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن میں 14.4 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

قبل ازیں سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے منگل کی شام جدہ میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے تین روز کے بعد تیل کی سپلائی مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس ماہ کے دوران میں اپنے صارفین کو تیل کی مکمل سپلائی مہیا کرے گا اور ستمبر کے اختتام تک تیل کی یومیہ پیداوار ایک کروڑ دس لاکھ بیرل تک پہنچ جائے گی۔

ہفتے کو علی الصباح سعودی آرامکو کی بقیق اور خریص ہجرۃ میں واقع دو تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ان حملوں سے سعودی آرامکو کی ستاون لاکھ بیرل یومیہ پیداوار متاثر ہوئی تھی اور دو ارب مکعب فٹ گیس کی پیداوار بھی منقطع ہوگئی تھی۔ان حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں پندرہ فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

یمن میں قانونی حکومت کے خلاف ہتھیار بند ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اس ڈرون حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن سعودی عرب اور امریکا نے ایران پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔امریکا کے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر یمن نہیں، بلکہ ایران کی سمت سے حملہ کیا گیا تھا اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔