حوثیوں نے ایران کو سعودی آرامکو پر حملوں کے لیے ’کور‘ مہیا کیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا کے لیڈروں نے سعودی حکام کو بتایا ہے کہ انھوں نے سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملے نہیں کیے تھے بلکہ ان حملوں کی ذمے داری قبول کرکے ایران کو ’کور‘ مہیا کیا تھا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کو دو سعودی حکام کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔انھوں نے حوثی لیڈروں سے آرامکو پر حملوں کے بعد بات چیت کی ہے۔ایک سعودی عہدہ دار نے اخبار کو بتایا:’’حوثیوں نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ انھوں نے بقیق اور خریص میں آپریشن نہیں کیا تھا اور وہ اس کی ایسی سنگینی کی توقع نہیں کررہے تھے کہ ایران کے ایما پر ان حملوں کی ذمے داری قبول کرنے سے کیا ہوسکتا ہے؟‘‘

اس رپورٹ کے مطابق حوثی لیڈروں نے سعودی حکام کو مطلع کیا ہے کہ ایران اس کے بعد مزید حملوں کی بھی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

حوثیوں نے سعودی آرامکو کی بقیق اور ہجرۃ خریص میں واقع تیل کی تنصیبات پر چودہ ستمبر کو حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ایران نے اس بیانیے کی تشہیر کی تھی لیکن دوسرے ممالک نے ان کے اس موقف کو ناقابل یقین قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ تمام اشارے ایران کی جانب جاتے ہیں اور آرامکو حملوں میں اس کا ہاتھ کارفرما ہے۔عرب اتحاد نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر کہا تھا کہ حملوں کے لیے ایران ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے اور یہ حملے شمال سے شمال مغرب کی جانب کیے گئے تھے،یمن سے جنوب کی جانب سے نہیں کیے گئے تھے۔

دوسرے ممالک نے بھی ایران کو ان حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔برطانیہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ہی ان حملوں کا ذمے دار ہے۔

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امورخارجہ عادل الجبیر نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کی ذمے داری قبول نہ کرنے سے متعلق بیانات کو مضحکہ خیز اور شرم ناک قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعہ کو کہا تھا کہ سعودی آرامکو پر حملے سنگین کشیدگی کے غماز ہیں اور یہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان حملوں کی تحقیقات کی تکمیل کے بعد سعودی عرب اپنی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی اقدام کی صورت میں کشیدگی میں اضافے کی بار بار دھمکی دے چکا ہے۔ایرانی بحریہ کے سربراہ رئیر ایڈمرل حسین خان زادہ نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا تباہ کن جواب دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں