ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے؟ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی صدر سے ممکنہ ملاقات سے متعلق سوال پر جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج سوموار کو نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے اپنی ممکنہ ملاقات کے بارے میں ایک سوال پر کہا ہے کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔
ان سے صحافیوں نے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا وہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے؟ امریکی صدر نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایرانی عہدے داروں سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ’’اتحاد برائے امید اور ہُرمز امن‘‘اقدام کا منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس میں عرب خلیجی ممالک کے مشترکہ تعاون کے ذریعے علاقائی امن پر زوردیا جائے گا۔
امریکی صدر نے جمعہ کو ایران کے مرکزی بنک پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی ایران پر اب تک عاید کردہ پابندیوں میں سے یہ سب سے سخت ترین ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسٹیون نوشین نے کہا تھا کہ مرکزی بنک ایران کو فنڈز کی فراہمی کا آخری ذریعہ تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملوں کا جواب دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔امریکی حکام نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔ان حملوں کے نتیجے میں تیل کی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔