.

ایران امریکی پابندیوں کے مقابلے میں یورپی امداد کی امید ترک کردے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ یورپی ممالک سے امریکی پابندیوں کے مقابلے میں کوئی امید وابستہ نہیں کرنی چاہیے اور اس کا کوئی امکان بھی نہیں کہ یورپی ممالک ایران کی کوئی مدد کریں گے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’’یورپی ممالک اپنے وعدوں کے باوجود عملی طور پر امریکا کی پابندیوں کی پاسداری کے پابند ہیں۔انھوں نے اسلامی جمہوریہ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔اس لیے یورپیوں سے کوئی امید وابستہ نہیں کی جانی چاہیے‘‘۔

خامنہ ای نے مزید کہا کہ ’’ان ممالک پر کوئی اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے جو ایران کے اسلامی نظام کے بارے میں مخالفانہ بینر اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ کھلے عام ایرانی عوام کی مخالفت کے درپے ہیں۔ان کی امریکا اور بعض یورپی ممالک قیادت کررہے ہیں۔‘‘

ان سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بدھ کی شب خطاب میں اسی قسم کے کلمات کہے ہیں۔ان کا کہنا تھا:’’ایران نے اب تک یورپی ممالک سے خوب صورت الفاظ ہی سنے ہیں۔‘‘

انھوں نے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے بارے میں کہا:’’اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ امریکا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یورپ بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے۔‘‘

ایران کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تین یورپی ممالک برطانیہ ، فرانس اور جرمنی فریق ہیں۔انھوں نے امریکا کی گذشتہ سال اس جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد ایران کے ساتھ انسانی استعمال اور خوراک کی اشیاء اور ادویہ کے تبادلے کے لیے ایک تجارتی میکانزم وضع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ میکانزم ابھی تک فعال نہیں ہوسکا ہے۔

ایران متعدد مرتبہ یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر یورپی ممالک نے اس کی معیشت کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات نہیں کیے تو وہ حساس جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کردے گا۔