.

قطر کی سپورٹ سے عمر البشیر کی پارٹی کا "احیاءِ نو" خارج از امکان نہیں : سوڈانی رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی ایک بڑی سیاسی جماعت حزب الامّہ کے رہ نما فتحی حسن عثمان کا کہنا ہے کہ یہ امر خارج از امکان نہیں کہ معزول صدر عمر البشیر کی جماعت "نیشنل پیپلز کانگریس" قطر اور ترکی جیسے ملکوں کی سپورٹ حاصل کر کے ایک بار پھر ملک کے سیاسی میدان میں واپس لوٹ آئے۔

عوام کی جانب سے انقلابی تحریک کے نتیجے میں رواں سال اپریل میں عمر البشیر کی حکومت ختم کر دی گئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو میں عثمان کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتیں آئندہ دنوں میں اکٹھا ہو کر خود مختار کونسل اور عبوری حکومت پر زور دیں گے کہ نیشنل پیپلز کانگریس پر پابندی عائد کی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سوڈان میں سیاسی اسلام کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ الاخوان المسلمین کی تاریخ ... یہ مختلف وقتوں میں سوڈان میں مختلف پارٹیوں کے ناموں سے سامنے آتی رہی ہے جن میں (الميثاق الاسلامی) اور (الجبهة الاسلامية القومية) اور (الحركة الإسلامية) اور (المؤتمر الوطنی) شامل ہے۔ آخر کار یہ سب ہی ناکامی سے دوچار ہوئیں اور دسمبر کے انقلاب کے ذریعے سوڈانی عوام نے سیاسی اسلام کے حوالے سے اپنا موقف واضح کر دیا۔

عثمان کے مطابق سوڈان میں الاخوان المسلمین پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ اس نے خطے کو بہت سے مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عثمان نے کہا کہ حال ہی میں ایک اخوانی ذریعے کے حوالے سے خبروں میں یہ بات سامنے آئی کہ قطر نے سوڈان میں الاخوان المسلمین کی ایک نئی جماعت کے لیے فنڈنگ فراہم کی ہے ... قطر کے لیے مکمل احترام رکھتے ہیں مگر یہ بات واضح رہے کہ دوحہ کی طرف سے الاخوان کو سپورٹ کرنے کی کوئی بھی کوشش یکسر مسترد ہو گی اور سپورٹ کرنے اور سپورٹ حاصل کرنے والے دونوں فریقوں کے لیے وبال ثابت ہو گی۔

حزب الامہ کے رہ نما کے مطابق قطر اور ترکی سابقہ حکومت کی شخصیات کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عمر البشیر کے بھائیوں کے علاوہ معزول صدر کے معاون فیصل حسن ابراہیم نے ترکی فرار ہو کر وہاں پناہ حاصل کی ہے۔