.

آرامکو حملوں کے بعد امریکا نے ایران کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے 14 ستمبر کو سعودی عرب میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد ایران کے خلاف سائبر حملے کیے۔ یہ بات رائیٹرز خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتائی۔

مذکورہ ذمے داران کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کے ذریعے عالمی سطح پر نقصانات کے بغیر تہران کو سزا دی جا سکتی ہے۔

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے تیزی دکھاتے ہوئے نئے ہتھیاروں کا تجربہ کیا۔ ان ہتھیاروں کا مقصد نیچی پرواز کرنے والے ڈرون طیاروں کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ پیش رفت 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی مرکزی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی۔

پینٹاگان کے مطابق تنازعات کے علاقوں میں ڈرون طیاروں کا خطرہ سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ دفاعی امور کے جریدے Popular Mechanics کے مطابق اسی وجہ سے پینٹاگان دفاعی اسلحہ تیار کرنے والی کمپنی Raytheon سے PHASER ہتھیار خریدنے پر مجبور ہوا۔

دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کچھ عرصہ قبل باور کرا چکے ہیں کہ وہ اس بات پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران نے جو کچھ کیا وہ جنگی کارروائی ہے۔ سعودی ولی عہد کے مطابق ارامکو تنصیبات پر حملوں میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور رسد پر کاری ضرب لگائی گئی۔