الریاض سمجھوتا یمن میں جاری بحران کے خاتمے کی جانب اہم قدم ہے:سعودی کابینہ

سعودی عرب یمن کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مدد جاری رکھے گا:شاہ سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان اس ماہ کے اوائل میں الریاض میں طے شدہ سمجھوتے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یمن میں جاری بحران کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔

سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے) کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس منگل کے روز الریاض میں ہوا۔اس میں الریاض سمجھوتے سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ یمن کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مدد وحمایت جاری رکھے گا اور وہ دوسرے ممالک کو بھی یمن میں مداخلت سے روکے گا تاکہ وہ اس کے ذریعے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار نہ کرسکیں۔

سعودی عرب کے وزیر برائے میڈیا ترکی الشبانہ نےایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے الریاض سمجھوتے کو سراہنے والے تمام ممالک سے اظہار تشکر کیا ہے اور یمن کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے کوشوں کو سراہا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کی قانونی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نے پانچ نومبر کو’الریاض سمجھوتے‘ پر دست خط کیے تھے۔ فریقین میں یہ سمجھوتا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد طے پایا تھا۔

اس سمجھوتے کے تحت یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کی عمل داری میں گورنریوں کے درمیان تعاون کو مربوط بنایا جائے گا۔ یہ دونوں فریق ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے مخالف ہیں اور عرب اتحاد کے شانہ بشانہ اس کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں