’’امریکا آپ کے ساتھ ہے‘‘:پومپیو کا ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اعادہ
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ملک کی جانب سے ایرانی عوام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
مائیک پومپیو نے ایرانی عوام کے نام 2018ء میں ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک براہ راست پیغام کا حوالہ دیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’امریکا آپ کو سن رہا ہے، وہ آپ کی حمایت کرتا ہے اور آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘اپنی نئی ٹویٹ میں بھی انھوں نے اس حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
تب ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ’’ایران کے ساتھ جنگ تمام جنگوں کی ماں ہوگی۔‘‘اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے ایرانی صدر حسن روحانی کو خبردار کیا تھا کہ’’کبھی امریکا کو دوبارہ ڈرائیں دھمکائیں نہیں، ورنہ آپ کو بھی اسی طرح خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس طرح ماضی میں دوسروں کو خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔‘‘
As I said to the people of Iran almost a year and a half ago: The United States is with you. https://t.co/D972wPyLxm
— Secretary Pompeo (@SecPompeo) November 16, 2019
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک ٹویٹ میں امریکا کی جانب سے ایرانی عوام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن آرٹاگس نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ امریکا طویل عرصے سے مصائب کا شکار ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔انھوں نے ایرانی حکومت کے انٹرنیٹ کو بند کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
ایران بھر میں گذشتہ دو روز سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی بند کردی ہے۔
امریکی کانگریس کے رکن وِل ہرڈ نے بھی ایران میں مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم ایران کو صرف ایک طرح ہی دہشت گردی کی حمایت اور جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ اس کی حکومت تبدیل کردی جائے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں۔‘‘
متحدہ عرب امارات میں نئے امریکی سفیر جان راکولٹا نے دبئی میں ائیر شو کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا ایران میں نظام کی تبدیلی کی وکالت نہیں کررہا ہے۔ہم یہ ایرانی عوام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔وہ مایوس ہوچکے ہیں اور آزادی چاہتے ہیں۔‘‘
ایران کے مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہِ راست گولیاں چلائی ہیں، پانی توپوں اور اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں جمعہ کے بعد مظاہرین کی ہلاکتوں کی تعداد انتیس ہوگئی ہے۔مظاہرین نے کئی شہروں میں اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے مرکزی شاہراہیں بند کردی ہیں۔