ڈنمارک: داعش کے رکن دو غیرملکی جنگجوؤں کے پاسپورٹ ضبط، شہریت منسوخ
ڈنمارک کی حکومت نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے دو افراد کے ڈینش پاسپورٹ ضبط کر لیے ہیں۔ڈنمارک میں گذشتہ ماہ منظور کردہ ایک قانون کے تحت یہ پہلا فیصلہ ہے۔
ڈنمارک کے امیگریشن کے وزیر میٹیاس ٹیفائے نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی وزارت چار افراد کے کیسوں کی جانچ کررہی تھی اور ان میں سے دو کی شہریت منسوخ کردی گئی ہے۔
ان دونوں افراد میں سے ایک کی خاتون وکیل نے بتایا ہے کہ انھیں سوموار کو اس فیصلے کے بارے میں پتا چل گیا تھا اورانھوں نے اپنے موکل کو اس بارے میں مطلع کردیا ہے لیکن اس شخص کے اتا پتا کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔داعش کے اس مبیّنہ رکن کی عمر پچیس سال بتائی گئی ہے اور وہ ترکی اور ڈنمارک دونوں کی شہریت کا حامل تھا اور ڈنمارک کو مطلوب تھا۔
وکیل میٹ گریتھ اسٹیج نے ڈینش میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حکم کے خلاف اب ڈینش عدالتوں سے رجوع کریں گی۔ان کے موکل نے ستمبر 2013ء میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن عدالت کے حکم کی وجہ سے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔دوسرے شخص کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈنمارک کی پارلیمان نے 24 اکتوبر کو ایک قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت دُہری شہریت کے حامل غیرملکی جنگجوؤں کی ڈینش شہریت کو عدالت کے حکم کے بغیر منسوخ کیا جاسکتا ہے۔