امریکا نے قبرص کو اسلحہ کی فروخت پرعاید پابندی ختم کی تو کشیدگی بڑھے گی: ترکی کا انتباہ
ترکی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے قبرص کو اسلحہ مہیا کرنے پر گذشتہ کئی عشروں سے عاید پابندی ختم کی تو اس سے دوطرفہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
امریکی کانگریس نے جزیرہ قبرص کو اسلحہ فروخت کرنے پر عاید پابندی ختم کردی ہے۔امریکا نے 1987ء میں یہ پابندی عاید کی تھی اور اس کا مقصد خطے میں اسلحہ کی دوڑ سے بچنا اور اس تنازع کے حل کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
قبرص 1974ء سے دو حصوں، یونانی قبرص اور ترک قبرص میں منقسم چلا آرہا ہے۔تب یونان میں فوجی رجیم نے قبرص میں حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے ردعمل میں ترکی نے اپنی فوج قبرص میں اتار دی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے منگل کی شب ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکی فیصلے سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا ، سوائے اس کے کہ اس سے جزیرے پر تنازع کے حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور خطرناک محاذ آرائی پیدا ہوگی۔‘‘
امریکی کانگریس نے دفاعی اخراجات کے ایک بڑے بل کے حصے کے طور پر قبرص کو اسلحہ مہیا کرنے پر عاید پابندی ختم کرنے کی منظوری دی ہے۔اب یہ بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دست خطوں سے قانون بن جائے گا۔
امریکا اور ترکی کے درمیان پہلے ہی دوطرفہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ان کے درمیان مختلف امور اور تنازعات کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔امریکا شامی کردوں کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی اس گروپ کو دہشت گرد قراردیتا ہے۔امریکا نے ترکی کی روس سے میزائل دفاعی نظام ایس-400 کی خریداری کی شدید مخالفت کی ہے اور اس کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی ہے۔
مگر ترک وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’’ترکی کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔دھمکیوں اور پابندیوں کی زبان سے ترکی کو کبھی اپنی قومی سلامتی کویقینی بنانے کے لیے اقدامات سے دستبردار نہیں کرایا جاسکتا۔‘‘