ایرانی صدر روحانی امریکا کی قیادت میں بحری مشن میں جاپان کی عدم شمولیت پرشاداں !
ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کی قیادت میں خلیج میں بحری مشن میں جاپان کے عدم شمولیت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے ہفتے کو نشر ہونے والے بیان کے مطابق صدر حسن روحانی نے جاپان اور ملائشیا کے دورے کے بعد کہا ہے کہ ’’جاپان نے خطہ خلیج میں امریکا کے سکیورٹی کے منصوبے میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’جاپان نگرانی کے لیے جہاز بھیج رہا ہے لیکن خلیج یا آبنائے ہُرمز میں نہیں۔‘‘
جاپان امریکا کا اتحادی ہے مگر اس کے ایران کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔وہ امریکا کی قیادت میں خطۂ خلیج میں تجارتی بحری جہازوں کے لیے بحری مشن میں شامل ہونے کے بجائے اپنے طور پر کارروائیاں کرنا چاہتا ہے۔
جاپان اس مجوزہ آپریشن کے تحت خلیج عُمان ، بحیرہ عرب کے شمال میں اور خلیج عدن میں نگرانی کی کارروائیاں کرے گا لیکن آبنائے ہُرمز کی جانب نہیں جائے گا۔
جاپان کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے اس مجوزہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے مطابق جاپان خلیج میں ایک ڈسٹرائیر بھیجے گا اور معلومات کے حصول کےلیے اس کا پی-3-سی طیارہ خطے میں پروازیں کرے گا۔واضح رہے کہ جاپان خلیج سے 90 فی صد خام تیل درآمد کرتا ہے۔
امریکا نے مئی اور جون میں خلیج کے پانیوں میں تیل بردار اور مال بردار بحری جہازوں پر پے درپے تخریبی حملوں کے بعد ایک بحری مشن کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی۔امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا لیکن اس نے تردید کی تھی۔
جولائی میں ایرانی بحریہ نے خلیج میں برطانیہ کے ایک ٹینکر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس نے یہ کارروائی جبل الطارق میں ایک ایرانی جہاز پکڑے جانے کے ردعمل میں کی تھی۔یہ ایرانی جہاز برطانوی بحریہ نے شام پر بین الاقوامی پابندی کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا تھا۔بعد میں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے زیر قبضہ جہازوں کو چھوڑ دیا تھا۔